Pakistan looks 'like a sea' after floods, PM Shehbaz says

اسلام آباد(اے یو ایس ) پاکستان میں گذشتہ24گھنٹے کے دوران مزید12اموات سے سیلاب کی زد میں آکر مرنے والوںکی تعداد بڑھ کر یک ہزار 357ہو گئی۔ جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب کی صورت حال دیکھ کر بے ساختہ کہا کہ پاکستان کے کئی حصے ایک سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کچھ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ‘پائیدار نظام’ کی ضرورت پر زور دیا جس کی عدم موجودگی کے باعث حالیہ مون سون سیزن کے دوران پاکستان میں غیر معمولی بدترین بارشوں اور سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔تباہ کن سیلاب کی بے انتہا شدت کے پیش نظر حکام کو امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت سے سوا 3 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں جو اس کی آبادی کا 15 فیصد ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 12 افراد ہلاکت خیز سیلاب کے دوران جان کی بازی ہار گئے جب کہ 14 جون سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 357 ہوگئی ہے۔نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) نے اپنے بیان میں ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کی وجہ سے 17 افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ اب تک رپورٹ ہونے والے زخمیوں کی کل تعداد 12ہزار722 ہو گئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آج خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں کے ساتھ ملحقہ پہاڑوں پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جب کہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔آج صبح این ایف آر سی سی کے ڈپٹی چیئرپرسن احسن اقبال اور فورم کوآرڈینیٹر میجر جنرل ظفر اقبال نے سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فورم کے اجلاس کی صدارت کی۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی، اصلاحات اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح سیلاب زدگان کی امداد یے جو پہلے دن سے جاری ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری قوم متاثرہ لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے متعدد بیماریاں سامنے آئی ہیں خاص طور پر پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں جس سے متاثرہ افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سینٹر کے اجلاس میں کیا، اجلاس میں سیلاب سے متعلق امدادی سرگرمیوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے) کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے سروے تیز کرنے کی ہدایت کی، اجلاس میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، پی ڈی ایم ایز کے سربراہان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح سیلاب زدگان کی امداد ہے جو پہلے دن سے جاری ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری قوم متاثرہ لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔