At least three months required to drain out floodwater in Sindh

سندھ:(اے یو ایس ) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں 3 سے 6 ماہ کا عرصہ لگے گا۔مون سون کی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے 14 جون سے اب تک ملک بھر میں ایک ہزار 396 افراد جاں بحق اور 12 ہزار 728 زخمی ہوئے جب کہ 3 کروڑ سے زیادہ شہری بے گھر ہوئے ہیں۔تباہ کن سیلاب کے دوران سندھ اب تک سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں اور سب سے زیادہ شہری زخمی ہوئے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایک ہزار 396 اموات میں سے سندھ میں مجموعی طور پر 578 شہری جاں بحق ہوئے، اسی طرح صوبے میں زخمیوں کی تعداد 8 ہزار 321 ہے جب کہ ملک بھر میں زخمیوں کی مجموعی تعداد 12 ہزار 728 ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبے کی موجودہ صورتحال اور تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو ایک ہونا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قدرتی آفت اور موسمیاتی تباہی سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین بھی سیلاب کی زد میں آ چکی۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں کسانوں کو تقریباً 3 ارب 50 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے جب کہ مویشی پالن کے شعبے کو 50 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ علاقوں میں کم از کم 8 سے 10 فٹ پانی ہے، جن علاقوں میں سیلابی پانی اتر چکا ہے وہاں بھی ایسی صورتحال نہیں ہے کہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جاسکیں، پاکستان میں اس سال غیر معمولی بد ترین بارشیں ہوئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رواں سال صوبے میں معمول سے 10 سے 11 گنا زیادہ بارشیں ہوئیں، عام طور پر گڈو اور سکھر کے مقام پر تقریباً 4 لاکھ کیوسک سیلابی ریلا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے اور صوبے کے نکاسی آب اور آبپاشی کے نظام کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کے اخراج میں 3 سے 6 ماہ لگیں گے۔مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ صوبے کو خیموں اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے سربراہ سے ملاقات کے دوران اٹھایا تھا۔