Black Hawk helicopter crashes during Taliban training exercise, killing three

کابل:(اے یو ایس ) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کی تربیتی مشق کے دوران ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی ساختہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تربیتی مشق کے دوران نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے کیمپس میں فنی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا۔طالبان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی کے مطابق اس واقعے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔طالبان لگ بھگ ایک سال قبل اگست 2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں برسر، اقتدار آئے تھے۔جس کے بعد طالبان نے چند امریکی ساختہ ایئر کرافٹس قبضے میں لیے تھے جب کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی تعداد کتنی ہے۔طالبان کے مطابق امریکہ کی فورسز نے افغانستان چھوڑتے ہوئے ملٹری ہارڈ ویئر کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا تھا جب کہ سابقہ حکومت کے ماتحت افغان فورسز چند ہیلی کاپٹرز وسطی ایشیائی ممالک میں اڑا کر لے گئے تھے جو اب بھی وہاں موجود ہیں۔

رواں سال اپریل میں امریکہ کے قانون سازوں کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں پینٹاگان نے تصدیق کی تھی کہ افغانستان میں امریکہ کی حمایت یافتہ حکومت کے زوال کے بعد طالبان کو لگ بھگ سات ارب ڈالر سے زائد مالیت کا امریکی فوجی ساز وسامان ہاتھ لگا تھا۔یہ تفصیلات جو سب سے پہلے امریکہ کے نشریاتی ادارے ‘سی این این’ نے رپورٹ کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے افغانستان کی فوج کو طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں کھڑا کرنے کے لیے کس قدر کوشش کی تھی۔رپورٹ میں گزشتہ سال 30 اگست کو کابل کے بین الااقوامی ایئرپورٹ سے آخری امریکی فوجی کے روانہ ہونے کے بعد طالبان کے ہاتھ لگنے والے ساز وسامان کی مالیت کی تفصیل بھی دی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق 2005 سے 2021 تک افغان فوج کو فراہم کیے گئے 18 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیار اور سازوسامان میں سےصرف سات ارب ڈالر کا سامان وہاں باقی رہ گیا تھا۔محکمہ دفاع کے ترجمان میجر روب لوڈویک کے مطابق اس میں ہوائی جہاز، گاڑیاں، گولہ بارود، بندوقیں اور مواصلاتی ساز وسامان کے ساتھ مرمت کے قابل دیگر اشیا بھی شامل تھیں۔انہوں نے زور دیا تھا کہ یہ سامان افغان حکومت کی ملکیت تھا، جو اب ختم ہوچکی ہے۔

افغانستان میں طالبان مخالف اتحاد کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات پنجشیر صوبے میں طالبان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں 32 طالبان ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔صبغت اللہ کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ فیراج، ابدرا، ہیسارک، منجاہور، عبداللہ خلیل اور شابا سمیت دیگر علاقوں میں طالبان سے جھڑپیں ہوئیں جن میں شکست کے بعد طالبان پنجشیر سے بھاگ کر قریبی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔طالبان مخالف اتحاد کی پنجشیر میں اس کامیابی کی کسی ا?زاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔دوسری طرف طالبان کےصوبہ پنجشیر میں ترجمان نے احمدی کے اس دعوے کی تردید یا تصدیق نہیں کی البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ جھڑپیں اس قدر شدید نہیں تھیں جس قدر بیان کی جا رہی ہیں۔