US Warns Syria's Al-Hol Camp 'breeding Ground' For ISIS Resurgence

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکی فوج کے مشرق وسطیٰ کے لیے نگران جرنیل نے یہ کہہ کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ الھول میں قائم پناہ گزینوں کا کیمپ داعش کے لیے افزائش کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس کیمپ سے انہیں اگلی نسل کے لوگ ملیں گے۔ امریکی جنرل نے کیمپ میں ہر ماہ تقریبا 80 بچے پیدا ہو رہے ہیں۔امریکی جنرل نے یہ بات جمعہ کے روز کمپ کے دورے کے بعد کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپ کی صورت حال خوفناک ہے۔ کیمپ داعش کے حامیوں اور ان کے خاندانوں سے بھرا ہوا ہے۔ تاہم امریکی سینٹ کام کے سربراہ جنرل ایرک کوریلا کا کہنا ہے کہ کیمپ کی اکثریت داعش کو مسترد کرتی ہے۔

جنرل کوریلا نے کہا ‘کیمپ کے رہائشیوں میں سے بہت سے لوگ معاشرے کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، بہت سارے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔ بہت سارے لوگ پھر سے واپس اپنے کام کاج کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ جبکہ کیمپ میں مقیم بہت سارے لوگ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا چاہتے ہی۔ جنرل ایرک کوریلا نے 9 ستمبر کو کیمپ کا دورہ کیا اور اندازہ لگایا ہے کہ الھول کیمپ 55000 کے قریب لوگ رہتے ہیں۔ ان میں سے نوے فیصد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہیں۔ لیکن سخت گرمی کے موسم میں، پانی کی وافر مقدر کے بغیر رہ رہے ہیں۔ ان میں سے نوجوان کی بڑی تعداد انتہا پسندی کے لیے نرم چارا بن سکتے ہیں۔اسی طرح اس میں ہر ماہ تقریبا 80 بچے پیدا ہونا ، بنیاد پرستی کی افزائش گاہ بن سکتی ہے۔ کیونکہ اس کیمپ کی موجود افراد میں سے 70 فیصد کی عمر 12 سال سے کم ہے۔ جنرل کوریلا نے کہا کہ داعش کے لوگوں نے عورتوں اور لڑکیوں کو زنجیروں سے باندھ کر غلاموں کی طرح رکھا ہوا ہے۔

کیمپ کے رہائشیوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان پر اپنے نظریات مسلط کے دیے جاتے ہیں۔ ان حالات میں بڑی تعداد کیمپ سے نکلنا چاہتی ہے مگر داعش انہیں نکلنے نہیں دیتی۔ دوسری جانب واشنگٹن نے کیمپ میں جن ملکوں کے لوگ ہیں انہیں کہا ہے کہ وہ یہاں سے اپنے لوگوں نکال لیں اور اپنے ملکوں میں لے جائیں۔واضح رہے کیمپ کے رہائشیوں میں سے نصف تعداد عراقی شہریوں کی ہے۔ لیکن عراق نے اپنے لوگوں کو واپس لانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔جنرل کوریلا نے کہ عراق کو چاہیے کہ وہ اپنے لوگوں کو واپس لانے کا عمل تیز کرے۔ کیونکہ ابھی اس مسئلے کو سنبھالا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو لا کر رکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے عالمی برادری کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں محسوس کرے۔ انہوں نے کہا اس بارے میں امریکی پالیسی کا مطالبہ کریں گے۔ میرا اس سلسلے میں امریکی انتظامیہ سے رابطہ ہے اور امریکی حکومت اس مسئلے کو انسانی مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے۔