Trump lawyers oppose letting FBI use seized classified documents

واشنگٹن:(اے یو ایس )سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلا نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر 100 سے زیادہ ان خفیہ سرکاری دستاویزات کو، محکمہ انصاف کو دوبارہ دیکھنے کی اجازت دینے کی مخالفت کرتے ہیں، جو فلوریڈا میں سابق صدرکی پام بیچ میں واقع رہائش گاہ مار-اے-لاگو سے ضبط کی گئی تھیں۔ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے عدالت میں داخل کیے جانے والی اس درخواست مخالفت کی بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی تھی۔اس سے قبل وفاقی استغاثہ نے گزشتہ ہفتے ایک وفاقی جج سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اس حکم کو واپس لے لیں جو دستاویزات کو دیکھنے اور ضبط شدہ فائلوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اسپیشل ماسٹر کی تقرری کی اجازت دیتا ہے۔

سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی طرف سے ایک خصوصی ماسٹر کی تقرری کی درخواست منظور کرتے ہوئے جنوبی فلوریڈا کی فیڈرل ڈسٹرکٹ جج ایلین کینن نے ٹرمپ اسٹیٹ سے ملنے والی دستاویزات کے غیر جانبدارانہ جائزے کی منظوری دی تھی۔جج ایلین کینن نے ٹرمپ کے وکلا کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے پیر تک کا وقت دیا تھا۔اس استدلال کے ساتھ کہ اسپیشل ماسٹر کے لیے جج کا حکم افراتفری سے نظم و ضبط کی بحالی کی طرف سمجھداری پر مبنی ایک ابتدائی قدم ہے۔ ٹرمپ کے وکلا نے جج کینن سے حکومت کی تحریک کو مسترد کرنے کی درخواست کی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ باقی رہ جانے والے عوامل کی روشنی میں، عدالت کو حکومت کی تحریک کو مسترد کرنا چاہیے۔کسی ثبوت کے بغیر ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران اصرار کیا کہ ہو سکتا ہے کہ فیڈرل ایجنٹس نے خود انکے گھر میں ثبوت رکھے ہوں۔گزشتہ پیرکو جج کینن نے ایک اسپیشل ماسٹر کی تقرری کا حکم یہ تعین کرنے کے لیے دیا تھا کہ کہ آیا ضبط شدہ دستاویزات میں سے کسی کو ٹرمپ کو واپس کیے جانے کااستحقاق حاصل ہے۔ انہوں نے تفتیش کاروں کو چھان بین کے مقصد کے تحت خفیہ دستاویزات تک رسائی سے بھی روک دیا تھا۔جمعرات کو، محکمہ انصاف نے کہا کہ اگر جج کینن ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو ضبط شدہ دستاویزات کو دوبارہ دیکھنے کی اجازت نہیں دیتیں تو وہ جج کے حکم کے خلاف اپیل کرےگا ۔