Bashir Noorzai released by US in exchange for Mark Frerichs, says Muttaqi

کابل: طالبان کے ایک سینئر رکن حاجی بشیر نورزئیجنہیںمبینہ طور پر طالبان تحریک کے بانی ملا محمد عمر کا معتمد خاص سمجھا جاتا ہے، امریکہ کی حراست سے رہائی کے بعد کابل پہنچ گئے۔امارت اسلامیہ کے ترجمان نے ٹویٹر پر یہ اطلا ع دیتے ہوئے کہا کہ قائم مقام وزیر خارجہ عامر خان متقی نے بشیر نورزئی کی رہائی کی خبر کا اعلان پیر کے روز کابل میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران کیا جو ان کی رہائی کے اعلان کے لیے ہی منعقد کیا گیا تھا ۔

انہوں نے ان کی رہائی کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور کہا کہ نورزئی کو امریکی شہری مارک فریرکس کے تبادلے میں رہا کیا گیا۔ اسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بشیر نورزئی نے کہا کہ امریکی شہری مارک فریچس کے لیے ان کے تبادلے سے افغانستان اور امریکا کے درمیان مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

نورزئی نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں تقریباً دو عشرے ایک امریکی جیل میں گزارے۔گرفتاری سے قبل نورزئی نے 2001 کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں سے رابطہ کیا تھا اور امریکہ گئے ۔ 2005میں جب نورزئی نیویارک میں تھے میں انہیں گرفتار کر لیا گیا اور ایک امریکی عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنادی۔