Israeli troops cross into Syria, shoot at four suspected of throwing explosives over Border

تل ابیب:(اے یو ایس ) اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ کل پیر کو اسرائیلی فورسز نے سرحد عبور کر کے شام میں داخل ہو کر چار افراد کو گولی مار دی جنہوں نے “سرحد کی باڑ پر پروجیکٹائل پھینکے۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔اگرچہ اسرائیل اکثر شامی سرزمین کے اندر فضائی حملے کرتا ہے، لیکن وہ شاذ و نادر ہی عوامی سطح پر سرحد پار کارروائیوں کو تسلیم کرتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں میں خسفین کے قریب خفیہ فوجیوں نے چار مشتبہ افراد کو دیکھا۔ ان افراد نے کچھ گولے داغے تاہم اسرائیلی فوج نے ان گولوں کی نوعیت واضح نہیں کی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سپاہیوں کو اس مقام پر بھیجا گیا جہاں انہوں نے سرحد عبور کی اور ایک مشتبہ شخص کی ٹانگوں میں گولی مار کرزخمی کردیا۔فوج نے بتایا کہ زخمی مشتبہ شخص، جس کی طبی حالت کا پتا نہیں چلا کو اسپتال لے جایا گیا ہے جب کہ باقی تین کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں ملیں۔

اسرائیل شام کے اندر اپنی فوجی کارروائیوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے، سوائے ان کے جو براہ راست ردعمل ہیں جسے وہ اسرائیل کی خودمختاری کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔لیکن اسرائیل نے 2011 میں ملک میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سیکڑوں فضائی حملے کرنے کا اعتراف کیا ہے، جس میں شامی حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ افواج سے تعلق رکھنے والے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں گولان کی پہاڑیوں کے دو تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔