J&K produces 98% walnuts in India

سری نگر: کشمیر ہر لحاظ سے خوبصورت ہے۔ کشمیر کا سیب ہو، زعفران ہو یا اخروٹ، یہاں کی ہر چیز لذیذ، شاندار اور لاجواب ہے۔ اگر کشمیری اخروٹ کی بات کی جائے تو یہ جان کر سبھی حیران رہ جائیں گے کہ دنیا کے بہترین اخروٹ کشمیر میں پائے جاتے ہیں۔سال کا یہ وقت وہ ہوتاہے جب کشمیری کسان اخروٹ اور زعفران کی فصلیں اکٹھا کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ اخروٹ کی فصل کو اس کے آخری وقت میں بچانا سب سے مشکل کام ہوتاہے۔ اس میں ساتھیوں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

لوگ کھیتوں میں گیت گاتے ہوئے فصل کواکٹھا کرنے کا کام کرتے ہیں۔ کشمیر میں یہ جشن کا سماں ہوتاہے۔یاد رہے کہ کشمیر میں ہر سال 89,000 ہیکٹر میں تقریبا 2.66 لاکھ میٹرک ٹن اخروٹ پیدا کیا جاتاہے۔ اس سال کپواڑہ نے اخروٹ کی پیداوار میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ملک میں اخروٹ کی 90 فیصد فصل کشمیر میں اگائی جاتی ہے۔ کشمیر میں اخروٹ کی تین قسمیں اگائی جاتی ہیں – وونتھ، کاگجی اور براجول۔وونتھ بنیادی طور پر تیل کے لیے اگایا جاتا ہے۔

کاغذی کو اس کے لمبے پھل کے لیے جانا جاتا ہے اور بارجول کا ذائقہ کریمی ہوتا ہے۔ اس فصل کوکیمیائی کھاد کے بغیر اگایا جاتا ہے۔محکمہ زراعت جموں و کشمیر اور فروٹ گروورز ایسوسی ایشن مل کر کسانوں کو اپنی فصلیں بین الاقوامی اور قومی منڈیوں میں فروخت کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ڈویان کشمیری ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے اور اسے تہواروں کے دوران رشتہ داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔