NAB to investigate against Illegal activities of Chinese companies

کراچی:(اے یو ایس ) پاکستان میں وفاقی سطح پر احتساب کے لئے قائم ادارے قومی احتساب بیورو ( ناب) کے حکام ان دنوں بعض ایسی چینی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کررہے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر عوام سے دھوکہ دہی کی ہے۔ اگرچہ اس طرح کی دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کی صحیح رقم ابھی تک حکام کو بھی معلوم نہیں ہوپائی ہے لیکن ناب عہدیداران کا کہنا ہے کہ یہ کروڑوں روپے ہوسکتی ہے۔یہ شکایت حکومت پاکستان ہی کے ایک اور ادارے سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے ناب حکام کو درج کرائی گئی جس کے تحت گولڈ ٹرانسمٹ نیٹ ورک ٹیکنالوجی اور گرین ایپل سپر مارکیٹ لمیٹڈ نامی دو کمپنیاں عوام سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی طور پر ڈپازٹ جمع کرنے میں مصروف ہیں اور پھر لوگوں کو منافع دینے کی فراڈ پر مبنی اسکیموں کو لانچ کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لئے لوگوں کو بھاری مراعات اور بھاری بھرکم منافعوں کی بھی پیش کش کی جارہی ہے۔ ایس ای سی پی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اسکیمز سے لوگ انتہائی محنت سے کمائی گئی جمع پونجیوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔

نیب حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی تین مختلف ویب سائٹس کے ذریعے لوگوں کو ایسے منافعوں کی پیش کش کرکے اپنے پاس رقوم رکھوانے کالالچ دے رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ان ویب سائٹس پر لوگوں کو کمپنیوں کے ساتھ پہلے رجسٹرڈ ہونے کا کہا جاتا ہے۔ رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد کسٹمرز کویہ کہا جاتا ہے کہ اپنے ڈپازٹ کمپنیز کے بینک اکاونٹس میں جمع کرائیں یا پھر کمپنیز کے دفاتر میں کیش کی صورت میں جمع کرائیں۔ ایک دفعہ کسٹمر کی جانب سے پیسے وصول ہونے کی صورت میں، انہیں مخصوص آئی ڈی نمبر جاری کیا جاتا ہے جس کی مدد سے کسٹمر، کمپنیوں کی ویب سائٹ پر لاگ اِن ہو کر اپنی پروفائل مینیج کرسکتا ہے۔اس کے بعد یہ کمپنیاں روپے جمع کرانے والے کسٹمرز کو پوائنٹس دیتی ہیں۔ اور سرمایہ کاری میں کمی یا زیادتی کی صورت میں یہ پوائنٹس بڑھتے یا گھٹتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ویب سائٹس ہی مین پلیٹ فارم ہوتے ہیں جہاں ماہانہ منافعوں کے بارے میں کسٹمرز کو مطلع کیا جاتا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان تین میں سے دو کمپنیوں کی یہ ویب سائٹس حکام کی جانب سے انکوائری کے آغاز پر ہی بند کردی گئی ہیں۔ جبکہ ایک ویب سائٹ اب بھی کام کررہی ہے۔