Nuclear deal 2015:US says no leniency towards iran

واشنگٹن:(اے یو ایس ) حالیہ صورتحال میں جب لگ رہا ہے کہ 2015 کے ایرانی جوہری معاہدے کو بحال کرنے میں جلد کوئی پیش رفت نہیں ہوگی، امریکی محکمہ خارجہ کے ذرائع نے کہا ہے امریکہ ایران کو کوئی رعایت نہیں دے گا۔ ذرائع نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا امریکہ ایرانی حکومت کی تمام خلاف ورزیوں بالخصوص دہشت گردی کی مالی معاونت سے پوری طرح آگاہ ہے۔انہوں نے کہا امریکی محکمہ خارجہ چند روز قبل ایران میں فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی خاتون مہسا امینی کے قتل کی شدید مذمت کرتا ہے اور ایرانی عوام پر ہونے والے ظلم کی مذمت کرتا ہے۔

ذرائع نے واضح کیا کہ امریکہ کے پاس ایرانیوں کی مدد کے لیے میکانزم موجود ہے۔ وائٹ ہاو¿س کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوان نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ کو نیو یارک میں ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق پیش رفت کی توقع نہیں۔ تاہم صدر جو بائیڈن اس بات کا اعادہ کریں گے کہ امریکہ دونوں فریقوں کی جانب سے معاہدے کی تعمیل کے آغاز کیلئے تیار ہے۔ جیک سلوان نے مزید کہا اگر ایران وعدوں کو پورا کرنے اور اس فارمولے کو قبول کرنے میں سنجیدہ ہے تو کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

واضح رہے یورپی یونین نے 8 اگست 2022 کو طویل کاوشوں ، پیچیدہ دوروں اور مذاکرات کے بعد معاہدے میں تعطل پر قابو پانے کی حتمی تجویز پیش کی تھی۔ یو رپی یونین کی یہ کوششیں اپریل 2021 میں شروع ہوئی اور 16 ماہ تک جاری رہی تھیں۔ یورپی یونین کے ترجمان جوزف بوریل کو اگست کے وسط میں پہلا ایرانی رد عمل موصول ہوا تھا۔ جس کے بعد ایرانی مشاہدات اور مطالبات کے بعد امریکی جواب آگیا۔ بعد ازاں پھر تہران نے رد عمل دیا۔ ایران نے مطالبہ کیا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو ایران کے تین مقامات کی تحقیقات روکنے کا بھی کہا جائے۔ یہ وہ مقامات تھے جہاں برسوں قبل یورینیم کے آثار پائے گئے تھے۔ امریکہ نے اس مرتبہ بھی معاہدے کی شقوں سے پیچھے نہ ہٹنے کے عزم کا اظہار کردیا اور معاملہ ایک مرتبہ پھر ہوا میں معلق ہوکر رہ گیا۔