Polluters Must Pay, Says UN Chief, Urges Taxes To Help Climate Victims

جنیوا:(اے یوایس)اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’موسمیاتی بحران سے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے بامعنی اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔مصر میں آئندہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس سی او پی 27 سے پہلے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ماحولیاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے عالمی رہنما¶ں کی میٹنگ کی مشترکہ میزبانی کی۔انتونیو گوتریس نے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’میرے پیغامات سخت تھے۔

انہوں نے کہا کہ آپ سب نے پاکستان (میں سیلاب) کی خوفناک تصاویر دیکھی ہوں گی۔ یہ گلوبل وارمنگ کے صرف 1.2 ڈگری پر ہو رہا ہے، اور ہم تین ڈگری سے زیادہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ چار مسائل سے نمٹیں: 1.5 سی کو ممکن رکھنے کے لیے زیادہ عزائم، ترقی پذیر دنیا سے مالی وعدوں کو پورا کرنا، موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق اقدامات اور (موسمیاتی تبدیلیوں سے) نقصان کا مسئلہ۔ترقی پذیر ممالک کا موقف ہے کہ تاریخی آلودگی پھیلانے والوں کو اخلاقی طور پر نقصان کا ازالہ کرنا چاہیے تاہم اس خیال کو امیر ممالک نے موسمیاتی سربراہی اجلاس سی او پی 27 میں مسترد کردیا تھا۔

چند روز قبل، ڈاکار میں ہونے والے کم ترقی یافتہ ممالک کے گروپ نے ایک بار پھر اس مسئلے پر زور دیا جس میں گلوبل وارمنگ سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے فنڈنگ میکانزم کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ مصر میں موسمیاتی سربراہی اجلاس سی او پی 27 اسے ماحولیاتی انصاف، بین الاقوامی یکجہتی اور اعتماد کی تعمیر کے معاملے کے طور پر اجاگر کرے گا۔