Shehbaz urges intnl community to provide debt relief for flood-hit Pakistan

اسلام آباد:(اے یوایس)وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ملک کے سیلاب زدگان کی مدد اور ان کی جلد از جلد باز آباد کاری کے لیے جمعہ کے روزبین الاقوامی عطیہ دہندگان سے فوری طور پر خصوصی پروگرام اور اقدامات کرنے کی اپیل کی۔جمعہ کو نیویارک میں بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ، جو گلے گلے قرض میں پھنسا ہے ،موسمیاتی سیلاب سے ہونے والی بے مثال تباہی سے نمٹنے کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ قرضوں میں خاطر خواہ ریلیف کے بغیر اس بے مثال تباہی کے ساتھ ہماری معیشت کو بحال کرنا ناممکن ہے۔قبل ازیں انہوں نے اقوام متحدہ میں بھی عالمی رہنماؤں سے پاکستان کی مدد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کی وجہ سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے سبب بھی بہت سے افراد ہلاک ہو رہے اور اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو فوری مدد کی اشد ضرورت ہے۔

سیلاب کے سبب ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ غرقاب ہو گیا تھا۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کہا کہ ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں کے لیے خوراک اور ادویات کی ضرورت ہے۔اس موقع پر پاکستانی وزیر اعظم نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے بھی ملاقات کی اور انہوں نے اس مشکل وقت میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ حالیہ بارشوں کے سبب پاکستان کا ایک بڑا حصہ زیر آب آگیا جس سے اب تک 1500 سے بھی زائد افراد ہلاک اور تقریباً سوا تین کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب سے بے گھر ہونے والے لاکھوں لوگ آسمان تلے کھلے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ سیلاب کا ٹھہرا ہوا پانی سیکڑوں کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس پانی کی نکاسی یا خشک ہونے میں دو سے چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں۔اس مشکل صورت حال میں ہیضہ، اسہال، جلد کی الرجی، ملیریا، ڈینگی بخار اور پیچش جیسی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں، جس کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ ”ہمیں موت اور بیماری کی لہر کے حقیقی خدشات کے بارے میں گہری تشویش ہے جو پہلے ہی اپنے پیرپھیلا چکی ہے۔ ایک دوسری آفت نظر آ رہی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے نے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بچوں کی مدد کے لیے 39 ملین امریکی ڈالر کی اپنی اپیل کی تجدید کی۔ یونیسیف نے ایک بیان میں کہا کہ فنڈنگ کی جو اپیل پہلے کی گئی تھی اس کی مد میں اب تک صرف ایک تہائی رقم ہی پوری ہو پائی ہے۔یونیسیف کے مطابق تقریباً 34 لاکھ بچے اپنے گھروں سے اجڑ چکے ہیں، اور پاکستان بھر میں سیلابی پانی 550 سے بھی زائد بچوں کی جان لے چکا ہے۔

یونیسیف نے کہا کہ مدد میں نمایاں اضافے کے بغیر، ہمیں خدشہ ہے کہ مزید بہت سے بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔بدھ کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران پاکستان میں سیلاب کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، مدد کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ابھی بھی زیر آب ہے اور اسے مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کہا کہ ایک ایسے وقت جب پاکستان پانی میں ڈوبا ہوا ہے، تو دوسری طرف قرن افریقہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ خشک سالی کا شکار ہے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم پہلے ہی آب و ہوا کے بحران سے گزر رہے ہیں۔ اس سال کے بعد اس پر اب کسی کو بھی شک و شبہہ نہیں ہونا چاہیے ۔