Boat carrying migrants from Lebanon sinks off Syria, 86 dead

بیروت:(اے یو ایس) شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس ہفتے کے اوائل میں لبنان سے روانہ ہونے والے تارکین وطن کی جو کشتی شام کے ساحل کے قریب پلٹ گئی تھی اس کے ہلاک شدگان کی تعدادبڑھ کر 86 ہو گئی ۔دریں اثنا شامی آبزرویٹری نے ہلاکتوں کی تعداد 88 بتائی ہے، جب کہ 50 مسافر ابھی تک لاپتہ ہیں۔شام کے شہر طرطوس کے قریب حادثے کی شکار اس کشتی پر تقریباً 150 افراد سوار تھے، جن میں زیادہ تر لبنانی اور شامی تھے۔ لبنان میں شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے کم از کم دس لاکھ سے زائد مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔لیکن لبنان خود پچھلے تین سال سے مشکل معاشی صورت حال سے دوچار ہے۔ اس معاشی بد حالی کی وجہ سے یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرف سے لوگوں کے نکلنے کی کوششوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ زندہ بچ جانے والے کشتی سواروں کو باسل ہسپتال میں علاج کی سہولتیں فراہم کی جاری ہیں۔

شامی وزارت صحت نے ابتدائی طور پر پندرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ بعد ازاں یہ تعداد 28 بتائی گئی جو بڑھتے بڑھتے88 ہو چکی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کا شامی بندرگاہ کے سربراہ سامر کبر اسلی کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ تارکین وطن کو لے جانے والی کشتی تھی جو حادثے کا شکار ہو گئی۔بچ جانے والے کشتی سواروں کا کہنا ہے کہ یہ کشتی کئی روز قبل لبنان سے روانہ ہوئی تھی۔ ‘مقامی ماہی گیروں نے ڈوبنے والی کشتی کے سوراوں کو بچانے کے لیے رضاکارانہ مدد کی ہے۔شام کی بندر گاہ جس کے نزدیک یہ کشتی ڈوبی ہے لبنان سے 50 کلومیٹر کے فاصلے کی دوری پر شام کی وزارت ٹرانسپورٹ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق، یہ کشتی طرابلس شہر کے قریب شمال میں واقع مینیہ سے روانہ ہوئی تھی۔ پچھلے ایک سال سے یہ چیز دیکھنے میں آرہی ہے کہ تارکین وطن سے لدی ہوئی کشتیاں انہیں یورپ کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔ماہ اپریل میں بھی ایک گنجائش سے زیادہ مسافروں سے لدی ہوئی کشتی کو حادثہ پیش آگیا تھا۔ کہ ان کا پیچھا لبنانی بحریہ کی کشتی کرنے لگی تھی۔ کہ وہ اسی دوران ڈوب گئی اور چھ سوار ہلاک ہو ئے تھے۔