Bhagwant Mann welcomes PM Modi's announcement to name Chandigarh airport after Bhagat Singh

نئی دہلی: (اے یو ایس)شہید بھگت سنگھ کے بھےتجے پروفیسر جگموہن سنگھ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگوت مان نے چنڈی گڑھ ہوائی اڈے کا نام شہید اعظم شہید بھگت سنگھ کے نام پر رکھنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔مان نے کہا کہ وزیر اعظم نے یہ اعلان کر کے پنجابیوں کی طویل عرصہ کی من کی مراد پوری کر دی ۔واضح ہو کہ مسٹرمودی نے یہ اعلان آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہونے والے گذشتہ روز اپنے ماہانہ پروگرام من کی بات کی 93ویں قسط میں کیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس 28 ستمبر کوسی منانے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں وہ کیا وجہ ہے! میں صرف دو لفظ کہوں گا لیکن مجھے معلوم ہے، آپ کا جوش چار گنا زیادہ بڑھ جائے گا۔ یہ دو الفاظ ہیں سرجیکل اسٹرائیک۔ بڑھ گیاناجوش! ہمارے ملک میں امرت مہوتسو کی جو مہم چل رہی ہے انہیں ہم دل و جان سے منائیں، اپنی خوشیوں کو سب کے ساتھ بانٹیں۔مسٹرمودی نے کہا کہ آج سے تین دن بعد 28 ستمبر کو امرت مہوتسو کا ایک خاص دن آرہا ہے۔ اس دن مادروطن کے بہادر بیٹے بھگت سنگھ جی کا یوم پیدائش ہے۔ بھگت سنگھ کے یوم پیدائش سے عین قبل انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔

فیصلہ کیا گیا ہے کہ چندی گڑھ کے ہوائی اڈے کا نام اب شہید بھگت سنگھ کے نام پر رکھا جائے گا۔ اس کا کافی عرصے سے انتظار تھا۔انہوں نے کہا کہ میں چنڈی گڑھ، پنجاب، ہریانہ اور ملک کے تمام لوگوں کو اس فیصلے کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اپنے آزادی پسندوں سے تحریک لے کر، ان کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے، ان کے خوابوں کا ہندوستان بنانا ہے اور یہی ان کے تئیں ہماری خراج عقیدت ہے۔ شہداءکی یادگاریں، ان کے نام سے منسوب جگہوں اوراداروں کے نام سے ہمیں فرض شناسی کی ترغیب ملتی ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ملک نے کرتویہ پتھ پرنیتا جی سبھاش چندر بوس کا مجسمہ لگا کر ایسی ہی کوشش کی ہے اور اب شہید بھگت سنگھ کے نام پرچنڈی گڑھ ایئرپورٹ کا نام اس سمت میں ایک اور قدم ہے۔انہوں نے کہا، ”میں چاہوں گا، امرت مہوتسو میں، جس طرح ہم آزادی پسندوں سے متعلق خاص مواقع پرخوشیاں منارہے ہیں، اسی طرح 28 ستمبر کوبھی ہر نوجوان کوکچھ نیا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔وزیر اعظم نے تہوار پر تحائف کے طور پر کھادی، ہینڈ لوم اور دستکاری کے ساتھ ساتھ مقامی مصنوعات کواور پیکنگ کے لیے غیر پلاسٹک بیگز کے استعمال پر زور دیا ہے۔ من کی بات میں مسٹر مودی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہمارے تہواروں کے ساتھ ملک کا ایک نیا عزم بھی جڑ گیا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں، یہ ’وکل فار لوکل‘ کا عزم ہے۔ اب ہم تہواروں کی خوشی میں اپنے مقامی کاریگروں، دستکاروں اور تاجروں کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ 2 اکتوبر کو باپو کے یوم پیدائش کے موقع پر ہمیں اس مہم کو مزید تیز کرنے کا عہد کرنا ہے۔ کھادی، ہینڈلوم، دستکاری، ان تمام مصنوعات کے ساتھ ساتھ مقامی اشیا ضرور خریدیں۔

آخرکار، اس تہوار کی اصل خوشی اس وقت ہوتی ہے جب ہر کوئی اس تہوار کا حصہ بنتا ہے، اس لیے ہمیں مقامی مصنوعات کے کام سے وابستہ لوگوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ ہم تہوار کے دوران جو بھی تحائف دیتے ہیں اس میں اس قسم کی مصنوعات کو شامل کیا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت یہ مہم اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ آزادی کے امرت تہوار کے دوران، ہم ایک خود کفیل ہندوستان کا ہدف بھی لے کر چل رہتے ہیں۔ جو حقیقی معنوں میں آزادی کے دیوانوں کو حقیقی خراج عقیدت ہوگا۔ لہذا میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بار کھادی، ہینڈلوم یا دستکاری کی مصنوعات خرید کر تمام ریکارڈ توڑ دیں۔انہوں نے کہا ”ہم نے دیکھا ہے کہ تہواروں کے دوران پولی تھین بیگ کو پیکنگ اور پیجکنگ کے لیے بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ صفائی ستھرائی کے تہواروں پر پولی تھین کا نقصان دہ فضلہ ہمارے تہواروں کے جذبے کے بھی خلاف ہے۔ لہذا، ہم صرف مقامی طور پر بنائے گئے غیر پلاسٹک بیگ استعمال کریں۔ جوٹ، کپاس، کیلا، اس طرح کے بہت سے روایتی بیگ یہاں ایک بار پھر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم تہواروں کے موقع پر ان کی تشہیر کریں، اور صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ اپنی صحت اور ماحول کا بھی خیال رکھیں۔