At least 20 killed as heavy rains wreak havoc in UP

لکھنؤ:(اے یوایس) اتر پردیش میں گزشتہ چند دنوں سے جاری بارش نے ریاست کے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے، تاہم بارشوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یوپی کے ہر ضلع میں، ہر گاؤں یا شہر میں ہر طرف موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ بارشوں کے درمیان ریاست میں کئی حادثات پیش آ چکے ہیں، جن میں اب تک 20 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ بارش کی وجہ سے لوگوں کے گھر بار اور زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں۔ بارشوں کا یہ سلسلہ اتوار کے روز بھی جاری ہے۔متعدد مقامات پر فصلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں، جس سے کسانوں کے سامنے ایک الگ بحران کھڑا ہو گیا ہے۔

یوپی میں سہارنپور سے لے کر غازی آباد، نوئیڈا، آگرہ، علی گڑھ، فیروز آباد، اس کے علاوہ پوروانچل کے بستی اور وارانسی تک ہر جگہ کم و بیش یہی صورت حال نظر آ رہی ہے۔ کئی اضلاع میں اسکولوں کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے اور انتظامیہ لوگوں کی مدد کے لیے مسلسل موثر اقدامات کر رہی ہے۔ بارش کا اثر مغربی یوپی کے 8 اضلاع میں زیادہ نظر آ رہا رہا ہے۔ پوروانچل کا ذکر کریں تو گورکھپور، بستی، ایودھیا، گونڈا، بارہ بنکی، سنت کبیر نگر سیلاب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے خود فضائی سروے کرکے ان علاقوں کا معائنہ کیا اور حکام کو ہدایات جاری کیں۔نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا میں اتوار کو چوتھے دن بھی بارش جاری رہی۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث جگہ جگہ پانی جمع ہو گیا ہے۔

ریاست میں 24 گھنٹوں میں اوسطاً 12.9 ملی میٹر بارش ہوئی، جوکہ 4.3 ملی میٹر کے اوسط تخمینہ سے 300 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں شراوستی میں ریاست میں سب سے زیادہ 57.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارش کی وجہ سے یوپی کے 11 اضلاع کے 228 گاؤں سیلاب کی زد میں ہیں۔ وہیں، آگرہ، علی گڑھ، بلند شہر کی بات کریں تو بڑے چوراہوں اور سڑکوں پر گھٹنوں تک پانی بھرا نظر آ رہا ہے۔ایودھیا میں سرجو ندی مسلسل خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے جس سے اس کے ملحقہ علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ کئی مقامات پر دیہی علاقوں کی اہم سڑکوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ وارانسی میں بھی گھاٹوں پر پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے، جس کی وجہ سے گنگا آرتی کے مقام کو بھی کئی بار تبدیل کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش کا یہ سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔