PFI receives billions of rupees from the Gulf countries and Turkey

دبئی: سیکیورٹی ایجنسیوں کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا ( پی ایف آئی )کے خلاف چھاپے میں فنڈنگ سے متعلق چونکا دینے والے سراغ ملے ہیں۔ معلومات کے مطابق پی ایف آئی کو بیرون ملک سے بھاری فنڈنگ مل رہی ہے۔ یہی نہیں خلیجی ممالک میں مقیم کئی تنظیموں کے ساتھ پی ایف آئی کے روابط بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کی ایک رپورٹ کے مطابق، پی ایف آئی کے انڈیا فریٹرنٹی فورم(آئی ایف ایف) سے روابط ہیں جو مشرق وسطی میں سرگرم ہے۔رپورٹ کے مطابق پی ایف آئی کو انڈیا فریٹرنٹی فورم سے بہت زیادہ فنڈنگ مل رہی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق پی ایف آئی کے کیرالہ کی ایک این جی او سے بھی روابط ہیں۔

تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق پی ایف آئی کو مسلم ریلیف نیٹ ورک سے بھی فنڈنگ ملتی ہے اور مسلم ریلیف نیٹ ورک (ایم آر این) کو کئی مسلم ممالک کی جانب سے فنڈنگ کی جارہی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں سے وابستہ ایک اہلکار کے مطابق، پی ایف آئی سے منسلک ری ہیب انڈیا فاو¿نڈیشن (آر آئی ایف) کو ملک کی کئی مسلم تنظیموں اور پی ایف آئی کے مسلم ہمدردوں کی طرف سے فنڈ فراہم کیا جاتا ہے۔ پی ایف آئی کو حوالات کے ذریعے فنڈنگ کا بھی انکشاف ہوا ہے۔اس سے پہلے بھی پی ایف آئی پر ایک رپورٹ سامنے آئی تھی کہ خلیجی ممالک میں رہنے والی پی ایف آئی سے ہمدردی رکھنے والے مسلمان اسے کروڑوں روپے کی فنڈنگ کر رہے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق صرف متحدہ عرب امارات اور عرب ممالک سے پی ایف آئیز کو ہر ماہ 3 ملین درہم کی فنڈنگ کی جاتی ہے۔

تحقیقات میں خلیجی ممالک کو پی ایف آئی سے منسلک کئی مین پاور سپلائی کمپنیوں کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ کیرالہ، تمل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹرا اور اتر پردیش جیسی ریاستوں سے ان کمپنیوں کے ذریعے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہزاروں لوگ ہر ماہ پی ایف آئی کو رقومات بھیجتے ہیں۔سیکورٹی ایجنسیوں کے حکام کے مطابق 30 ہزار سے زائد پی ایف آئی کیڈرز یا مسلم فنڈز کے ہمدرد متحدہ عرب امارات اور عرب ممالک میں ان مین پاور سپلائیز سے فنڈنگ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر شخص کو پی ایف آئی کو ہر ماہ 100 درہم فنڈز دینے ہوتے ہیں، یعنی وہ مل کر پی ایف آئی کو ہر ماہ 30 لاکھ درہم فنڈ دیتے ہیں۔ پی ایف آئی کی فنڈنگ کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پی ایف آئی کی کتابوں کی اشاعتوں، میگزینوں اور سی ڈیز کے ذریعے بھی آمدن ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ایف آئی کو ملک کی کئی مساجد اور مدارس سے بھی چندہ ملتا ہے۔ تحقیقات میں کیرالہ کی کچھ این جی اوز کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جن کے ذریعے خلیجی ممالک سے پی ایف آئی کو فنڈنگ دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق پی ایف آئی کو ترکی کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کی کئی این جی اوز کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ ترک این جی او 100 ممالک میں سرگرم ہے۔