Late Shah's Son Hails Iran's 'Revolution for and By Women'

تہران:(اے یو ایس ) ایران کے سابق ولیعہد شہزادہ رضا پہلوی نے یران میں خواتین کے حقوق کے لیے حکومت مخالف احتجاج اور مظاہروں کو ، جو روز بروز بڑھتے اور ملک گیر پیمانے پر پھیلتے جا رہے ہیں اور جس میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے ، خواتین کا ایک تاریخی انقلاب قرار دیتے ہوئے اسکا خیر مقدم کیا اور دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کی مذہبی قیادت پر دباو¿ میں اضافہ کرے۔

رضا پہلوی نے ،جن کے والد بادشاہ وقت محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت 1979 کے اسلامی انقلاب میں معزول ہو گئی تھی، ایران کے کسی مستقبل کے نظام کے لئے ،جو بقول انکے سیکیولر اور جمہوری ہو گا،بڑے پیمانے پر تیاریوں کے لئے کہا ہے۔رضا پہلوی نے جو واشنگٹن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اے پی کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ دور جدید میں خواتین کے لئے، خواتین کے ذریعے، ایرانی مردوں، بیٹوں بھایﺅں اور باپوں کی مدد سے پہلا انقلاب ہے۔انہوں نے کہا اب وہ وقت آگیا ہے جیسے کہ ہسپانوی کہتے ہیں’ باسطا‘ یعنی بس اب بہت ہو گیا۔ایران میں اقلیتوں اور ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے خلاف امتیاز کی مذمت کرتے ہوئے پہلوی نے کہا وہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور کے جبر و ستم کی علامت کی نمائندگی خواتین کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا ان کے خیال میں زیادہ تر ایرانی خواتین جب آزاد دنیا میں خواتین کو حاصل آزادیوں ہر نظر ڈالتی ہیں تو وہ اپنے بھی وہی حقوق چاہتی ہیں۔خیال رہے کہ ان کے دادا رضا شاہ کبیر نے پڑوسی ملک ترکی سے متاثر ہوکر ایران میں مغربی رسم و رواج لانے کی مہم کے حصے کے طورپر1936 میں اسلامی پردے پر پابندی عائد کر دی تھی۔آخری بادشاہ محمد رضا پہلوی نے پردے یا حجاب کا معاملہ خود خواتین کے انتخاب پر چھوڑ دیا تھا۔ جسے اسلامی جمہوریہ نے تبدیل کرکے، حجاب لازمی کردیا۔پہلوی نے جو خود تین بیٹیوں کے باپ ہیں کہا کہ ایرانی معاشرہ ‘ مرد کی برتری کے دور سے بہت آگے نکل آیا ہے۔ اور خواتین کیا چاہتی ہیں اس کا احترام کیا جانا چاہئیے۔

پہلوی نے جو بیشتر جلا وطن کمیونٹی میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں کہا کہ وہ ایران میں بادشاہت کی بحالی کے لئے کوشاں نہیں ہیں۔بیرون ملک اپوزیشن کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ ایران میں ایک آئین ساز اسمبلی کے حامی ہیں جو ملک کا نیا آئین تیار کرے۔ان کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں اکثر یہ سمجھتی ہیں کہ وہ ایرانی حکومت کو اپنا رویہ بدلنے کے لئے ترغیبات دے سکتی ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ تو اپنی آئیڈیالوجی برآمد کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ اور ان کے ساتھ پر امن بقائے باہم کے اصول پر عمل نہیں ہو سکتا۔