Former IRGC Commander: Forensics Report Says Mahsa Amini Died of Skull Injury

تہران:(اے یو ایس ) ایران عراق جنگ کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیئر کمانڈروں میں سے ایک محمد باقر بختیار نے پولیس حراست میں ہلاک ہونے والی مہسا امینی کی موت کے متعلق اہم انکشاف کردیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مہسا کی موت سرپر چوٹ سے ہوئی۔ انہوں نے مہسا امینی کی موت پر شدید حیرت کا اظہار بھی کیا۔ مہسا کی موت کے بعد سے ایران بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فرانزک رپورٹس کے نتائج کے مطابق امینی کوما میں چلی گئی اور کھوپڑی پر چوٹ لگنے سے مر گئی۔ ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ کہ مہسا کو اندرونی خون بہنے کی وجہ سے کسریٰ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ اپنی کھوپڑی میں چوٹ لگنے کی وجہ سے کوما میں چلی گئی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ معلومات حکومت کے اندر سے باضمیر افراد نے لیک کی ہیں۔مہسا امینی جن کا تعلق شمال مغربی ایران کے کرد شہر سقز سے ہے کو اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا۔ گرفتاری کے تین روز بعد وہ 16 ستمبر کو ہسپتال میں انتقال کر گئی تھی۔ڈاکٹروں نے اہل خانہ کو بیٹی کی حالت کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ اہل خانہ کے کسی بھی فرد نے مہسا کا سی ٹی سکین نہیں دیکھا تھا۔خاندان کے دو قریبی ذرائع نے بتایا کہ مہسا کی میت کو فرانزک آفس میں ڈھانپ دیا گیا تھا۔ مہسا کے والد بھی اپنی بیٹی کی ٹانگ کے چھوٹے سے حصے کو دیکھ سکے تھے، ٹانگ کے اس حصہ پر انہیں زخم نظر آئے تھے۔مہسا امینی کی موت سے ایران بھر میں اشتعال پھیل گیا اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ ایرانی مظاہرین ذاتی آزادیوں پر پابندیوں کے خلاف سڑکوں پرنکل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہروں میں خواتین کا کردار نمایاں ہے۔ بہت سی خواتین نے دوران احتجاج سروں سے دوپٹے اتار کر نذر آتش کردئیے۔