Reconciliation in political chaos is needed

شاہد ندیم احمد (پاکستان)
ملک میں سیاسی منظر نامہ یکایک بدلنے لگا ہے ،وزیر اعظم شہباز شریف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو مفاہمت کی پیشکش کرنے لگے ہیں، وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت جمہوری طریقے سے ختم کی گئی‘ بیرونی سازش کا کوئی عمل دخل نہیں ،آیئے اختلافات بھلا کر آگے بڑھتے ہیں ،اتحادی حکومت ایک طرف مفاہمت کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب سیاسی مخالفین کے خلاف ورنٹ گرفتاری جاری کروانے کے ساتھ آرٹیکل چھے لگانے کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں ،یہ کیسی سیاست اور کیسی منافقت ہے کہ جو ملک میں مفاہمت کے نام پر انتشار کا باعث بنتی جارہی ہے ۔اس میں شک نہیں کہ ملک میں سیاسی اور انتظامی ٹکراﺅ نے ہر شعبہ کی ترقی کو جامد کر رکھا ہے ،سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں اور توانائی کا مرکز قومی ترقی اور عوامی مسائل کا حل نہیں رہاہے ،اگرحکومت اور اپوزیشن کی کارکردگی کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو مرکزی قیادت کا سب سے زیادہ وقت ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی‘ الزام تراشی اور انتقامی اقدامات پر صرف ہو رہا ہے‘ حکومتی و اپوزیشن رہنماﺅں کے دن کا ایک حصہ عدالتوں اور تفتیشی اداروں میں پیشیاں بھگتنے پر خرچ ہوتاہے ،اس انتشارزدہ ماحول نے ملک کے لئے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں،اس کا تدارک مذاکرات و مفاہمت سے ہی ممکن ہے ،لیکن مفاہمت کے نام پر منافقت کی جائے گی تو حالات سلجھنے کی بجائے مزید بگڑتے چلے جائیں گے۔

اتحادی حکومت نے مفاہمت کی بات کوئی پہلی مرتبہ نہیں کی ہے ،اس سے قبل بھی وزیر اعظم زبانی کلامی مفاہمت اور میثاق معیشت کی باتیں کرتے رہے ہین ،مگر عملی طور پر پہلے کوئی اقدامات کیے گئے نہ اب کیے جارہے ہیں ، وزیر اعظم شہباز شریف جس روزمفاہمت کی پیشکش کر رہے تھے ،اس روز ہی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں امریکی سائفر کی چوری کا ملبہ سابق وزیر اعظم اور ان کے رفقا پر ڈالنے کی مشاورتبھی کی جارہی تھی ،جبکہ سابق وزیر اعظم اپنے اقتدار کے آخری دو روز میں یقینی بنایا تھاکہ سائفر کی ایک کاپی سپیکر قومی اسمبلی اور دوسری چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھیج دی جائے،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے استعفیٰ دینے سے پہلے اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ سائفران کی خاص فائل میں موجود ہے‘ اگلا سپیکر منتخب ہونے والا رکن اس پر مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔اتحادی حکومت جس سائفر کے غائب ہونے کی بات کررہی ہے، اس سائفر کی عبارت تمام سیکورٹی کمیٹی کے شرکاءکو سنائی گئی اور اس پر اتفاق ہوا تھاکہ عبارت نامناسب اور دھمکی آمیز ہے،اتحادی حکومت کو سب سے پہلا چیلنج یہی درپیش رہا ہے کہ وہ عوام کو باور کرائے کہ وہ امریکہ کی سازش کے نتیجے میں برسر اقتدار نہیں آئی ہے،اس میں سب سے بڑی رکاوٹ سائفر اور اس پر سلامتی کمیٹی کی رائے تھی، وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلایا اور پھر سے سائفر کی عبارت اور سازش کے معاملات پر غور کیا گیااورپھر سے بتایا گیا کہ یہ سازش نہیں مداخلت تھے ،اس وقت تک سائفر وزیر اعظم کی فائل میں تھا، اگر یہ اہم دستاویز غائب ہوئی ہے تو اصولی بات یہی ہے کہ اس کی ذمہ داری پچھلی حکومت کی بجائے موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں سکیورٹی بریچ کا معاملہ ہے۔

چند روز سے وزیر اعظم ہاﺅس میں ہونے والی اہم گفتگو کی ٹیپس نامعلوم ہیکر انٹرنیٹ پر ڈال رہا ہے۔ ان ٹیپس کا مواد بتاتا ہے کہ ہیکر حکومتی اور اپوزیشن رہنماﺅں کی اس گفتگو میں دلچسپی رکھتا ہے جس سے دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف لڑائی میں شدت لا سکتے ہیں۔ابھی تک قومی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھے جانے والا مواد ریلیز نہیں ہوا۔اب ہونا تو یہ چاہیے کہ ان ٹیپس کے مواد کا جائزہ لے کر بڑی انٹیلی جنس ایجنسیوںکو تفصیلی رپورٹ کا کہا جاتا لیکن اس موقع پر انتظامی حلقوں کی کم اہلی اور معاملات کو وسیع تناظر میں نہ دیکھ پانے کی عادت خرابی کی جڑ تک نہیں پہنچنے دے رہی ہے ،جبکہ یکر نے ثابت کر دیا ہے کہوزیر اعظم سمیت دیگر اہم جگہوں کی سکیورٹی تسلی بخش نہیں ہے۔ اس وقت ملک کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے،لیکن حکومت اور اپوزیشن ان مسائل کا تدارک کرنے کی بجائے دست گریباں ہے ،اتحادی حکومت کے متعلق عام تاثر پایا جاتا ہے کہ اس نے اب تک اپنے رہنماﺅں کے خلاف مقدمات کے خاتمہ کے سوا کوئی کام نہیں کیاہے ،،اتحادی حکومت اپنی کا رکر دگی دکھانے کی بجائے ساراملبہ سابقہ حکومت پر ڈال کر ڈنگ ٹپاﺅ پر وگرام پر عمل پیراں ہے،اتحادی حکومت اپنی ناقص کار گزاری کے دوران گاہے بگا ہے مفاہمت کی باتیں کرتے ہیں ،لیکن حقیقی مفاہمت کا آغاز اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے دوسرے کو غلطیاں نہ کرنے کا مشورہ دینے سے ہی ہوتا ہے ،ملک کو درپیش مسائل کے حل تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ قبل از وقت انتخابات‘ انسداد بد عنوانی ‘ انتخابی اصلاحات اور معاشی اہداف پر اتفاق پیدا کیا جائے،اگر اتحادی حکومت کی جانب سے مفاہمت کی پیشکش واقعی سنجیدہ ہے تو حکومت اور اپوزیشن کو ان نکات پر ایک دوسرے سے مکالمہ کرنا جاہئے،بصورت دیگر اس سیاسی انتشار میں مفاہمت کی تلاش میں سر گرداں لوگوں کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئےگا ،سب ہی اپنے خالی ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔