Around the world, protesters take to the streets in solidarity with Iranian women

تہران:((اے یو ایس ) ایران میں 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے جب کہ دنیا کے متعدد ملکوں میں ہزاروں افراد ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت میں اکھٹے ہوئے اور ریلیاں نکالیں۔اختتامِ ہفتہ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف دنیا کے مختلف ملکوں میں ریلیاں اور اجتماعات ہوئے جن میں واشنگٹن ڈی سی، مونٹریال ، روم ، لندن ، فرینکفرٹ، سول اور دیگر شامل ہیں۔ناروے میں قائم گروپ ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر)نے اتوار کو بتایا کہ ایران میں جاری مظاہروں کے دوران فورسز کی جانب سے پکڑ دھکڑ میں اب تک کم از کم 92 افراد مارے جا چکے ہیں۔آئی ایچ آرنے یہ بھی بتایا کہ ایرانی حکام نے انٹرنیٹ تک رسائی مزید سخت کر دی ہے۔ایران کے سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ 17 ستمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک کم از کم 41 مظاہرین اور پولیس اہل کار ہلاک ہو چکے ہیں۔البتہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے سرکاری بیانات کی گنتی کے مطابق بتایا ہے کہ کم از کم 14 افراد ہلاک ، جب کہ 1500سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ایران کے اعلیٰ ترین با اختیار سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک گیر مظاہروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جب کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے امینی کی موت کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اختتامِ ہفتہ ہزاروں افراد نے روایتی احتجاجی مرکز ‘پلیس ڈی لا ری پبلک ‘ سے پلیس ڈی لا نیشن تک پیدل سفر کیا۔مظاہرین نے اسلامی جمہوریہ مردہ باد ، ڈکٹیٹر مردہ بادکے ساتھ ساتھ تین الفاظ ‘عورت، زندگی، آزادی’ کے نعرے لگائے جو ایران میں ہونے والے مظاہروں کا کلیدی نعرہ بن چکے ہیں۔ایران کےسخت ڈریس کوڈ کی پابندی نہ کرنے کے الزام میں پویس نے 22 سالہ خاتون مہسا امینی کو حراست میں لیا تھا۔ مہسا کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ دورانِ حراست مہسا کو مارا پیٹا گیا تھا تاہم حکام کا دعویٰ ہے کہ اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔استنبول میں سینکڑوں مظاہرین نے تہران حکومت کے خلاف اور ایران میں مظاہرین کی حمایت میں نعرے لگائے۔خواتین نے سرخ گلاب، ایرانی پرچم اور ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر عورت، زندگی، آزادی کے الفاظ درج تھے، جوگزشتہ ماہ ایک ایرانی کرد خاتون امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کی بین الاقوامی جنگ کا نعرہ بن گیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق کرد اکثریت پر مشتمل ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیارِ بکر میں تقریباً 200 افراد نے ایرانی خواتین کی تصاویر اور ایک بڑے بینر کے ساتھ مظاہرہ کیا اس پر بھی کرد زبان میں عورت، زندگی، آزادی نعرہ تحریر تھا۔سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی اور اے ایف پی سے تصدیق شدہ تصاویر کے مطابق مظاہرین ہفتے کی شام مغربی شہر ازمیر میں بھی جمع ہوئے۔مونٹریال، وینکوور، ٹورنٹو اور دارالحکومت اوٹاوا سمیت کناڈا کے کئی شہروں میں ہزاروں لوگوں نے مارچ کیا۔اے ایف پی کے مطابق کینیڈا میں عوامی نشریاتی ادارے سی بی سی نے ہفتے کے روز ٹورنٹو کی تصاویر نشر کیں جن میں موٹرسائیکل سواروں نے 5 کلومیٹر لمبی سڑک پر کھڑے ان مظاہرین کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا جو جسٹس فار مہسا امینی کی ٹی شرٹس پہنے ہوئے تھے اورہاکی اسٹکس کے سروں پر لگے ایرانی پرچم لہرا رہے تھے۔مونٹریال میں، کئی خواتین نے اپنے بال کاٹے جب کہ 10,000 سے زیادہ کے ایک ہجوم نے انصاف اور اسلامی جمہوریہ کو نہیں کے نعروں پر مشتمل پلے کارڈز لہرائے۔

اے ایف پی کے مطابق ہفتے کے روز امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا، جہاں کرد برادری کے سینکڑوں افراد وائٹ ہاؤس کے دروازوں کے باہر جمع ہوئے جن میں سے کچھ نے تہران میں حکومت کی تبدیلی کے مطالبوں پر مبنی پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔کیلی فورنیا میں، ہزاروں ایرانی امریکیوں نے ہفتے کے روز لاس اینجلس کے اندرون شہر کی سڑکوں پر ان مظاہروں کے ساتھ یکجہتی کے لیے مارچ کیا جنہوں نے تین ہفتے قبل تہران میں امینی کی موت کے بعد سے ایران کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ایک مرکزی چوراہے سنٹاگما چوک پر ایران کی مہسا امینی کی موت کے خلاف بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں کتبے تھامے ہوئے تھے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق سوئٹزر لینڈ کے دار الحکومت برن میں ہفتے کو دیر گئے ہونے والے احتجاج میں پولیس نے ایرانی سفارت خانے کے سامنے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اس وقت ربر کی گولیوں کا استعمال کیا جب دو افراد سفارت خانے کے جنگلے پر چڑھ گئے اور ایرانی پرچم کوکھمبے سے نیچے اتار دیا۔پولیس نے کہا کہ انہوں نے سفارت خانے کے میدان میں داخل ہونے والے دونوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق حکام نے بتایا کہ ربر کی گولیوں کا استعمال اس وقت کیا گیا جب دوسرے مظاہرین نے بھی جنگلے پر چڑھنے کی کوشش کی۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا مزید مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔