Efforts ongoing to reopen girls’ schools, says Islamic Emirate’s spokesman Zabiullah Mujahid

کابل:اسلامی امارات کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ملک میں درجہ ششم سے اوپر کی جماعتوں کے لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھولنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مجاہد نے مزید کہا کہ اس معاملہ کے تصفیہ کے لیے مساعی جاری ہے اور خدا کی مدد سے تمام امور بحسن و خوبی طے پا جائیں گے۔

دریں اثنا صوبہ پکتیا میں کئی قبائلی عمائدین نے درجہ ششم سے اوپر کی جماعتوں کی طالبات کے لیے اسکولوں کو مسلسل بند رکھے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور امارت اسلامیہ پر یہ کہتے ہوئے زور دیا کہ ان کی بیٹیاں اپنے اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہیں اس لیے لڑکیوں کے اسکول جلد از جلد دوبارہ کھولے جائیں۔

پکتیا کے ایک قبائلی بزرگ حاجی اول خان نے کہا کہ لڑکیاں گھروں میں ہیں اور مایوسی کا شکار ہیں لڑ کیوں کو تعلیم کی ضرورت ہے اور اسلامی تعلیمات کی رو سے مخؒوط تعلیم سے بچنے کے لیے لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے الگ الگ اسکول بنائے جائیں تاکہ لڑکیاں اور لڑکے تعلیم حاصل کر سکیں۔ ایک اور قبائلی رہنما حاجی گلاب الدین نے کہا کہجب گردیز میں اسکول دوبارہ کھلے تو مقامی لوگ بہت پرجوش تھے لیکن جب ا نہیں دوبارہ بند کر دیا گیا تو وہ غمگین ہو گئے تھے۔ہم مفاد عامہ میں امارت اسلامیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اسکول دوبارہ کھولے۔