Militants block road linking Khyber Pakhtunkhwa, Gilgit Baltistan; demand release of accomplices

اسلام آباد: پاکستان کی جیل میں قید اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے دہشت پسندوں نے شورش زدہ صوبے خیبرپختونخوا کو گلگت بلتستان سے ملانے والی ایک مرکزی سڑک کو بند کر دیا، جس سے ایک سینئر وزیر اور متعدد سیاح درمیان میں پھنس گئے۔ یہ اطلاع ہفتہ کو ایک میڈیا رپورٹ میں دی گئی۔ جمعہ کو سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک آڈیو کلپ میں گلگت بلتستان کے سینئر وزیر عبداللہ بیگ کو مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد سے گلگت جاتے ہوئے دیکھا کہ دہشت گردوں نے اپنے ساتھیوںکی رہائی کے لیے حکام پر دبا و¿ڈالنے کے لیے سڑک کو بند کر رکھا ہے۔

ڈان اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ گلگت کے بدنام زمانہ دہشت گرد حبیب الرحمان کے ساتھیوں نے جمعہ کی شام 4 بجے دیامر کے علاقے چلاس کے ٹھاک گاو¿ں میں سڑک بلاک کر دی جس سے دونوں اطراف کے سیاح سڑک کے بیچوں بیچ پھنس گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جن میں نانگا پربت ریجن میں غیر ملکیوں کے بہیمانہ قتل اور دیامر میں دہشت گردی کے دیگر واقعات میں ملوث افراد بھی شامل ہیں سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے والے گلگت بلتستان کے وزیر کے ایک آڈیو کلپ میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلا مطالبہ جیل سے ان کے ساتھیوں کی رہائی ہے اور دوسرا مطالبہ اسلامی قانون کا نفاذ ہے جس میں خواتین کو کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کے رکن اسمبلی رضا ربانی نے عوامی تشویش کے ایک معاملے پر سینیٹ کے اسپیکر صادق سنجرانی کو بتایا کہ انہوں نے وزیر داخلہ پر زور دیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پارلیمنٹ اور بڑے پیمانے پر عوام کو اعتماد میں لیں۔ وزارت داخلہ نے حال ہی میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو روکنے یا اس کے دھڑوں کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہالوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ گروپ کے ساتھ بات چیت کن حالات میں ہوئی اور یہ کس موڑ پر ختم ہوئی اور ملک کو کن خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔