Taiwan reprimands Elon Musk over plan to resolve China-Taiwan tensions

بیجنگ:(اے یو ایس ) ٹیسلا اور سپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹیو افسر ایلون مسک کی جانب سے تائیوان کو چین کا خصوصی انتظامی علاقہ بنانے کی حمایت کے بعد جہاں چین نے اس کا خیر مقدم کیا ہے تو وہیں تائیوان نے اس کی مذمت کی ہے۔دنیا کے امیر ترین شخص نے فنانشل ٹائمز کو اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ دونوں حکومتیں ایک ‘معقول حد تک قابلِ قبول’ تصفیہ کر سکتی ہیں۔

امریکہ میں چین کے سفیر نے ایلون مسک کی تعریف کی مگر ان کے تائیوانی ہم منصب نے کہا کہ آزادی ‘برائے فروخت نہیں۔’واضح رہے کہ تائیوان خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے تاہم چین کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے۔گذشتہ ہفتے ایلون مسک نے ٹوئٹر پر ایک پول بھی کیا تھا جس میں انھوں نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے اور یوکرین کی جانب سے روس کے حق میں علاقوں سے دستبردار ہونے کے بارے میں سوالات تھے، جس پر انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایلون مسک نے حالیہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا ہے جب ان کی برقی گاڑی ٹیسلا نے چین میں فروخت کا نیا ماہانہ ریکارڈ قائم کیا ہے۔انھوں نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے ساتھ جمعے کو شائع ہونے والے اس انٹرویو میں انھوں نے دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ چین اور تائیوان کے درمیان تناؤ پر بھی بات کی۔ایلون مسک نے کہا کہ تائیوان کو معقول حد تک قابلِ قبول ایک خصوصی انتظامی علاقہ بنانے کی میری تجویز سے شاید سب لوگ خوش نہیں ہوں گے۔ اور یہ ممکن ہے، میرا خیال ہے کہ واقعتاً ایک ایسا انتظام طے پایا جا سکتا ہے جو ہانگ کانگ سے زیادہ نرم ہو۔