Lucy Letby, nurse accused of killing 7 babies, in U.K. court

لندن:برطانیہ کے ایک اسپتال میں پیدائش کے فوراً بعد بچوں کو مارڈالنے والی نرس پکڑی گئی یہ نرس معصوم بچوں کو خالی انجیکشن یا انسولین دے کر قتل کردیتی تھی۔ نرس کے خلاف 7 نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ 32 سالہ نرس لوسی لیٹبی پر نہ صرف سات بچوں بلکہ 10 دیگر کو بھی بے دردی سے قتل کرنے کا الزام ہے۔ ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ شروع ہو چکا ہے۔ عدلت میں ایک خاتون نے ، جس کےے جڑواں بچے ہوئے تھے ،کہا کہ وہ جب کمرے میں دخل ہوئی تو وہاں اس کے بچوں میں سے، جو پانچ روز کے تھے، ایک کو وہ نرس مارنے کی کوشش کر رہی تھی اور مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا کہ مجھ پر اعتماد رکھو میں ایک نرس ہوں۔

مانچسٹر کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ 2015 اور 2016 کے درمیان چیسٹر اسپتال کے نیو نیٹل وارڈ میں دو بچوں کو زہر کا انجکشن لگایا گیا۔ جب اسپتال میں اچانک بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ ہوا تو تحقیقات شروع ہوئی جس میں معلوم ہوا کہ بچوں کے بے ہوشی اور ان کی موت میں بار بار جو نام آرہا تھا وہ لیٹبی کا ہی تھا۔ جب وہ ڈیوٹی پر ہوتی تھی تب ہی بچوں کی ہلاکت کے واقعات سامنے آتے تھے۔ عدالت میں استغاثہ نے بتایا کہ کچھ بچے رگ میں ہوا بھرنے سے اور کچھ کو ٹیوب سے پیٹ میں ہوا بھرنے سے ہلاک کیا گیا۔ ایسے بھی کئی کیسز سامنے آئے جن میں نرس لوسی نے کئی بار قتل کی کوشش کی۔

پراسیکیوٹر نک جانسن نے کہا کہ خاتون نرس پر شک اس وقت اور پختہ ہوا جب 17 بچوں کو ایک ساتھ پریشانی ہوئی۔ لیٹبی آئی سی یو میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی تربیت پر تھی۔ اس پر پانچ لڑکوں اور دو لڑکیوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ پانچ لڑکوں اور پانچ لڑکیوں کو قتل کرنے کی کوشش کا بھی الزام ہے۔ بعض اوقات نرس بچوں کو ہائی لیول انسولین دیتی تھی جس کی وجہ سے ان کے خون میں شوگر بہت کم ہو جاتی تھی اور موت واقع ہو جاتی تھی۔ عملے کی دانشمندی سے کچھ بچے بچ گئے۔ عدالت میں بتایا گیا کہ بچے کو پیدائش کے ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی قتل کر دیا گیا۔ اسے انجکشن کے ذریعے ہوا دی گئی۔ تاہم نرس لیٹبی نے تمام 22 الزامات کی تردید کی ہے۔