Iran:Two members of security forces including one IRGC official shot dead

تہران:(اے یو ایس) ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ اہلکار کے علاوہ سرکاری ملیشیا کا یک عہدیدار کو جنوبی صوبے فارس میں جمعہ کی صبح نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ مہسا امینی کے حق میں ا سپرے پینٹنگ سے وال چاکنگ کرنے والے احتجاجی کارکنوں کا تعاقب کر رہے تھے۔خبر رساں ادارے ‘ ارنا’ کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے ان دونوں سکیورٹی اہلکاروں کو ‘فرض کی ادائیگی کے دوران شہید قرار دیا ہے۔’ ان دو سرکاری اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مظاہرین کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی مجموعی تعداد 20 سے زائد ہو گئی ہے۔

ایران کی بائیس سالہ کرد لڑکی مہسا امینی کو تہران میں پچھلے ماہ سر پر اسکارف لیے بغیر بازار میں نکلنے پر اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اسی حراست کے دوران مہسا امینی کی موت واقع ہو گئی۔ جنوبی صوبے فارس میں بھی اس واقعے کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ اب تک فارس کے علاقے میں چھ مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔اسی علاقے میں 30 ستمبر کو ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔ جس میں نو عمر لڑکی کے ساتھ مقامی پولیس کمانڈر کے ہاتھوں مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔ جبکہ جمعہ کی صبح پانچ بجے ایران کے بیروم نامی علاقے میں ایک موٹر سائیکل پر سوار افراد سے سامنا ہوا۔ یہ دونوں وال چاکنگ کر رہے تھے۔

سکیورٹی اہلکاروں نے ان کا تعاقب کیا تو انہوں نے فارنگ کر کے سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ دونوں سکیورٹی اہلکاروں کو سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں۔ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی کا کہنا ہے کہ بیرونی قوتیں ایران میں بدامنی کے پیچھے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ان مظاہرین کو بیرونی طاقتیں ہی تربیت اور وسائل دے رہی ہیں۔