Much to Pakistan's embarrassment, Kashmir continues to thrive

واشنگٹن: (اے این آئی): وادی کشمیر میں تعلیم، تجارت اور سیاحت کو معمول پر لانا تیزی سے رو بہ عمل ہے اور ا س میں زبردست پیش رفت نے نہ صرف پاکستان کو شرمندگی سے دوچار کر دیا بلکہ اس کے جھوٹ اور گھٹیاپن کو بے نقاب کیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے غیر قانونی قبضے والا کشمیر دم توڑتی معیشت اور جماعت اسلامی کی انتہاپسندی کا بدستور شکار ہے۔

کالم نویس مائیکل روبن نے اپنے دورہ کشمیر کے دوران دی نیشنل انٹرسٹ کے لیے کالم لکھتے ہوئے پاکستانی پروپیگنڈے کا پردہ فاش کیا جبکہ کشمیر معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن پھر بھی پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ہندوستان بدنام کیا جائے۔

کشمیر کو خواتین کی آزادی کا نخلستان قرار دیتے ہوئے روبن نے ان سرگرمیوں پر روشنی ڈالی جن پر افغانستان میں طالبان نے پابندیاں عائد کر کر کے خواتین کے لیے ممنوع قرار دے دی ہیں ۔اس کی ملاقات ایک17سالہ لڑکی سے ہوئی جس نے ضد کر کے اپنے والد کو کراٹے کرنے کی اجازت دینے پر آمادہ کیا۔ صحافیوں کاکہنا ہے کہ اب لڑکی نیشنل گولڈ میڈلسٹ ہے اور بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں حصہ لیتی ہے۔اس نے اپنے مضمون میں اپنے سفر کی روداد لکھتے ہوئے کہا کہ اب اس کے اسکول کی ساتھی طالبات اور سہیلیاں بھی اپنے اہل خانہ سے اسی طرح کی آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

وادی میں انتہا پسندی کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور لبرل ازم کا دور دورہ ہے۔خواتین کاروبار شروع کررہی ہیں یا سیاست میں قدم رکھ رہی ہیں۔ گاندربل میں، مقامی یونیورسٹی کے سکھ صدر نے اتھلیٹک کے نئے میدان اور ملٹی یونیورسٹی فٹ بال، والی بال، ٹیبل ٹینس، اور کھو کھو ٹورنامنٹ کی تیاریاں ہوتی دکھائیں۔کشمیر میں تعلیمی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ دی نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق آج کشمیر میں نہ صرف اسکول آسانی سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہے ہیں بلکہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ نے مقامی برانچیں کھولنے کے لیے نئے مواقع بھی موجود ہیں۔کاروبار ایک اور شعبہ ہے جو وادی کشمیر میں اپنے پھلنے پھولنے کی شہادت دے رہا ہے۔ سیاح نہ صرف ملک کے مختلف حصوں سے بلکہ یورپ، اسرائیل اور امریکہ سے بھی ڈل جھیل اور اس کے مشہور ہاو¿س بوٹ ہوٹلوں ک کو آباد کیے ہوئے ہیں۔