EU imposes sanctions on Iran's morality police and officials

برسلز: یورپی یونین (ای یو) نے ایران میں مہاسہ امینی کی موت میں کردار ادا کرنے والے ایرانی پولس کے 11 افراد اور چار اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کردی ہیں ایرانی کی حراست میں ایک 22 سالہ ایرانی خاتون کی موت کا واقعہ رواں ماہ بین الاقوامی شہ سرخیوں میں عام ہوا ہے اوراس سے پورے ایران میں سماجی بے چینی اور بڑے مظاہرے ہوئے ہیں، جن میں بہت سے لوگ مارے گئے-یورپی یونین کی جانب سے مہسا امینی کی موت کے ذمہ دار سمجھے جانے والے افراد کے خلاف پابندیاں جاری کی گئی ہیں، جن میں ایران کی اخلاقی پولس اور اس کی دو اہم شخصیات محمد رستمی اور حامد مرزائی شامل ہیں۔

یوروپی یونین نے پیر کے روز ایرانی قانون نافذ کرنے والی فورسز اور اس کے متعدد مقامی سربراہوں اور ایران کے وزیر برائے اطلاعات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی عیسی زری پور کو بھی درج فہرست کیا ہے۔ان پابندیوں میں سفری پابندیاں اور اثاثوں کو منجمد کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، یورپی یونین کے شہریوں اور کمپنیوں کی طرف سے ان درج فہرست افراد اور اداروں کو فنڈز فراہمی کی ممانعت ہوگی۔ یورپی یونین نے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ممنوعہ فہرست میں اب 97 افراد اور8 ادارے شامل ہیں۔