Nasal spray to be used in place of Corona vaccine against the virus

واشنگٹن:(اے یو ایس ) کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اس وقت کئی ویکیسنز استعمال کی جا رہی ہیں جنہیں بازو پر ٹیکے کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ لیکن اب طبی ماہرین نئی قسم کی ایک ویکسین سے امیدیں لگائے ہوئے ہیں، جسے ٹیکے کے بجائے اسپرے کی شکل میں ناک کے اندر چھڑکا جائے گا۔حال ہی میں اس سلسلے میں ایسٹرا زینیکا ویکسین کی نئی قسم ‘ناک کے اسپرے’ پر تجربات کیے گئے ہیں جو زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے لیکن ماہرین نے اسپرے سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔

ایسٹرا زینیکا اسپرے کے انسانوں پر کیے گئے تجربات میں رضاکاروں میں وائرس کے خلاف پیدا ہونے والی مدافعت انجکشن کے بعد بننے والی اینٹی باڈیز کے مقابلے میں کم تھی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ناک میں اسپرے کرنے کے طریقہ کار کو بہتر بنانے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں اور یہ اسپرے اسی طرح مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ پولیو سے بچاؤ کی ویکسین ہے، جس کے قطرے منہ میں ٹپکائے جاتے ہیں۔طبی ماہرین اسپرے کو مستقبل کی ویکسین قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ویکسین کا اسپرے انجکشن سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ انجیکشن لگانے سے انسان کے اندر کرونا وائرس کے شدید حملے کے خلاف مدافعت تو پیدا ہو جاتی ہے لیکن وہ بدستور دوسرے لوگوں تک وائرس پہنچانے کا ذریعہ بنا رہتا ہے جب کہ ناک کے اسپرے میں ایک جانب جہاں انسان خود وائرس کے حملے سے محفوظ ہو جاتا ہے تو دوسری طرف وہ دیگر افراد تک وائرس منتقل کرنے کا سبب بھی نہیں بنتا۔

ماہرین کے مطابق ناک میں اسپرے کرنے سے ویکسین ناک اور گلے میں موجود مواد میں شامل ہو جاتی ہے اور وائرس کو سانس کے ساتھ باہر نکل کر فضا میں پھیلنے سے مؤثر طور پر روک دیتی ہے۔چین دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے پچھلے مہینے کورونا وائرس سے بچاو¿ کی ناک میں ا سپرے کی شکل میں ویکسین کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ وہاں ناک میں ا سپرے کے لیے ایک خاص آلہ استعمال کیا جاتا ہے جس سے ویکسین ناک اور گلے کے اندر دور تک چلی جاتی ہے۔پچھلے ہفتے آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایسٹرا زینیکا ویکسین کے ناک میں اسپرے پر تجربات کیے تھے۔ ان تجربات کی قیادت سینڈی ڈگلس نے کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسٹرا زینیکا کے اسپرے کے نتائج سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہم نے جو ڈیٹا استعمال کیا وہ چین کے ڈیٹا سے مختلف ہے۔چین نے ناک میں اسپرے کے لیے ایک زیادہ جدید آلہ استعمال کیا تھا جس سے چین کی اسی قسم کی ویکسین نے اچھے نتائج دیے تھے۔کوئین یونیورسٹی بلفاسٹ کے وائرس کے علوم کے ایک ماہر کنور بام فورڈ نے یورپ میں کیے جانے والے تجربات پر کہا ہے کہ ان تجربات سے یہ پتا چلا ہے کہ ناک کے اسپرے میں رہ جانے والی خامیوں کو دور کر کے ویکسین کو اسی طرح زیادہ مو¿ثر بنایا جا سکتا ہے جیسا کہ پولیو کی ویکسین ہے جو قطروں کی صورت میں دی جاتی ہے۔