Sarah Inam murder case: Mother of main accused Shahnawaz Amir's mother arrested

اسلام آباد:(اے یو ایس ) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے پاکستانی نژاد کناڈیائی شہری سارہ انعام کے قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج ہونے پر انھیں گرفتار کر لیا ہے۔بدھ کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں مرکزی ملزم شاہ نواز کی والدہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کے موقع پر ایڈیشنل سیشن جج سہیل شیخ نے ملزمہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج کی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اس سے قبل 27 ستمبر کو ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی طرف سے اپنی بہو کے قتل اور بیٹے کی گرفتاری کے تین بعد درخواست ضمانت پر ابتدائی طور پر عبوری ضمانت منظور کی تھی، جس میں بعد میں توسیع کی جاتی رہی۔بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران ملزمہ ثمینہ شاہ اپنے وکلا کے ہمراہ، سارہ کے والد انجینئر انعام الرحیم، مقدمے کے مدعی اپنے وکیل راؤ عبد الرحیم کے ہمراہ اور کیس کے تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔مدعی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ثمینہ شاہ اپنے بیانات کی بنیاد پر اس مقدمے میں ملزمہ نامزد کی گئیں۔

جس پر ثمینہ شاہ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کی موکلہ نے ملزم کو گرفتار کروانے میں پولیس کی مدد کی ہے اور یہ کہ ان کی فقط اتنی غلطی ہے کہ وہ وقوعہ کے وقت فارم ہاو¿س میں موجود تھیں۔ان کے وکیل ارسل ہاشمی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فنگر پرنٹ یا اس کے علاوہ بھی کوئی ثبوت ثمینہ شاہ کے خلاف نہیں ہے۔مدعی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ دو دن پہلے سی سی ٹی وی بند کیوں ہوا اس کا جواب نہیں دیا گیا ہے، ثمینہ شاہ کا کردار صرف مدد کرنے کی حد تک ہے یا قتل میں بھی کردار ہے یہ تفتیش میں سامنے آئے گا۔مدعی کے وکیل راو¿ عبدالرحیم نے کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزمہ ثمینہ شاہ کو مزید ضمانت نہیں دی جانی چاہیے، انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ثمینہ شاہ کی مزید ضمانت قبل از گرفتاری خارج کی جائے۔چنانچہ عدالت نے ملزمہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج کر دی، جس کے بعد تھانہ شہزاد ٹاو¿ن کی پولیس نے انھیں کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا۔