Saudi ambassador to US reiterates Kingdom’s position on Russia-Ukraine war

ریاض:(اے یو ایس ) سعودی سفیر متعین امریکہ شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان بن عبدالعزیز نے زور دے کر کہا ہے کہ مملکت نے یوکرین – روس بحران کے آغاز ہی سے دونوں ملکوں کی خود مختاری کے احترام پر زور دینے کے ساتھ ساتھ جنگ میں انسانی امداد کا موقف اپنایا۔ٹوئٹر پر اپنے آفیشل اکاو¿نٹ پر ایک ٹویٹ میں ریما بنت بندر نے بحران کے آغاز سے ہی یوکرین کے ساتھ سعودی عرب کے موقف کی وضاحت کی اور ساتھ ہی ساتھ یوکرین کو فراہم کی جانے والی انسانی امداد کی طرف اشارہ کیا۔

سعودی عرب کی طرف سے یوکرین کو 400 ملین ڈالرکی امداد فراہم کی گئی ہے تاکہ جنگ سے متاثرہ افراد کی تکالیف کم کی جاسکیں۔شہزادی ریما بنت بندر نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ثالثی کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ولی عہد کی مساعی سے دو امریکیوں سمیت پانچ ممالک سے یوکرین اور روس کے 10 جنگی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ مملکت نے یوکرین کے لیے انسانی بنیادوں پر امدادی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ اس نے پولینڈ میں یوکرینی مہاجرین کو 10 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کی حمایت کی ہے۔

سعودی عرب نے یوکرینی زائرین کے ویزوں میں بھی توسیع کر دی ہے جس سے سیاحوں اور مملکت کے باشندوں کو وہاں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔سعودی عرب نے 2 مارچ 2022 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد اےA/آر ای ایس /ای ایس -11/1 کے حق میں ووٹ دیا جو کہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر ،ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کے حوالے سے سعودی عرب کے اصولی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔