Not allowing Afghan girls to attend school unacceptable, says UAE envoy at UN

اقوام متحدہ: متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ افغان خواتین اور لڑکیوں پر افگان حکومت کی بندشیں قابل قبول نہیں ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی سفیر متعین اقوام متحدہ لانا زکی نسیبہ نے جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خواتین، امن اور سلامتی پر کھلے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے خواتین اور لڑکیوں کے حصول تعلیم اور ملازمتوں پر عئد کردہ پابندیوں پر شدید نکتہ چینی کی۔

نسیبہ نے کہا کہ یہ با ناقابل قبول ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں ابھی تک سکنڈر ی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ طالبان کی ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کو سکنڈری اسکولوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ وہاں کوئی اگر مگر کا معاملہ نہیں ہے اور جب سے اقتدار میں واپسی ہوئی ہے اس کے بعد سے جو متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں وہ ہر گز بھی متحدہ عرب امارات کے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں۔یہ سراسر صنفی تفریق و تعصب ہے۔

نسیبہ نے مزید کہا کہ ہم ابھی تک خواتین اور لڑکیوں کو متاثرین اور پسماندہ افراد کے طور پر ابھی تک غلط فہمیوں میں الجھے رہے لیکن تبدیلی کے فرستادہ نہیں بنے۔ دریں اثنا اسلامی امارات کے ترجمان نے ایک ترک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ درجہ ششم سے اوپر کی جماعتوں کو معاملات طے ہوجانے اور طریقہ کار وضع کرلیے جانے کے بعد کھول دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسکولوں کا ایک حصہ ،جو چھٹی سے بارہویں جماعت تک مشتمل ہے،اس لیے بند کیا گیا ہے تاکہ ان کا نصاب درست کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے جسمانی تحفظ اور ان کی عزت و آبرو اور وقار کی اور زیادہ مناسب انداز سے محفوظ بنانے کے اقدامات کیے جاسکیں۔

علاوہ ازیں کچھ خاندانوں کو خدشات لاحق ہیں کیونکہ افغانستان ثقافتوں، روایات، حساسیت اور ناموس وغیرت جیسے زبردست جذبات کا حامل ملک ہے، اس لیے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک مناسب طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے اور لڑکیوں کو درجہ ششم کے بعد بھی تعلیم حاصل کرنے کی بھی اجازت دی جائے گی۔ .