Pakistan law minister Azam Tarar steps down

اسلام آباد:(اے یو ایس ) پاکستان کے وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے ذاتی وجوہ کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اپنے استعفے میں اعظم تارڑ نے کہا ہے کہ وہ ذاتی وجوہات پر یہ ذمہ داریاں جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔وزیرقانون نے 9ماہ کے تعطل کے بعد پاکستانی ہائی کورٹ کے تین ججوں کی ترقی دیے جانےکے بعد استعفیٰ د یا ہے ۔انگریزی اخبار ’ ایکسپریس ٹریبون‘ نے اعظم تارڑ کے ایک قریبی ساتھی وکیل کو حوالہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اعظم تارڑ نے اگرچہ سپریم کورٹ کے ججوں کے طور پر ترقی کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے منظور کردہ ناموں کی حکومتی ایما پر حمایت کی تھی تاہم وہ ان نامزدگیوں پرخوش نہیں تھے۔

اخبار کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے اعظم تارڑ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے ساتھ وفاداری بھی ظاہر کی ہے لیکن استعفیٰ دے کر انہوں نے بار کے ساتھ کھڑے ہونے کا بھی ثبوت دیا ہے۔ڈان اخبار کے مطابق گزشتہ روز انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کی برسی کے موقع پر وزیرقانون کی موجودگی میں پاکستان کی فوج کے خلاف نعرے بازی ہونے سے وہ بہت دل برداشتہ تھے اور استعفی دینے سے قبل اپنی ایک ٹویٹ میں بھی کہا کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں انہیں ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی پر افسوس ہوا ہے۔