US and Saudi Arabia will work out spat, Dimon and Falih say

ریاض:(اے یو ایس ) جے پی مورگن چیز کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) جیمی ڈیمون اور سعودی وزیربرائے سرمایہ کاری خالدالفالح نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا ممکنہ طور پر اپنے موجودہ مسائل کو حل کرلیں گے۔وہ الریاض میں منعقدہ مستقبل سرمایہ کاری اقدام (ایف آئی آئی) کانفرنس کے چھٹے ایڈیشن میں گفتگو کررہے تھے۔خالدالفالح نے اوپیک پلس کے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے حالیہ فیصلے کے بعد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات کے بارے میں گفتگو کی ہے۔انھوں نے امریکا کے ساتھ تناو¿ کوایک تنازعہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی دونوں فریق اس کا احسن طریقہ سے تصفیہ کرلیں گے۔انھوں نے ایک پینل گفتگو میں کہاکہ ہم بہت کچھ کر چکے ہیں،لیکن ہم طویل مدتی ٹھوس اتحادی ہیں،ہم اس حالیہ تنازعہ پرقابو پانے جا رہے ہیں جو میرے خیال میں غیرضروری تھا اورامید ہے کہ یہ ایک غلط فہمی پر مبنی تھا ۔

جیمی ڈیمون نے ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ”دیرینہ اتحادیوں کے اپنے مسائل کوحل کرنے کا امکان ہے۔سعودی عرب اور امریکا 75 سال سے اتحادی ہیں۔ میں تصور نہیں کر سکتا کہ کوئی اتحادی ہر چیز پر متفق ہو اور مسائل کا سامنا نہ کرے ۔انھوں نے کہا کہ میں مطمئن ہوں کہ دونوں اطراف کے لوگ اس پر کام کریں گے۔مملکت کے بااثر پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کے گورنریاسرالرمیان نے کہا کہ جیو پولیٹیکل مسائل ایک حقیقت ہیں اور یہ کہ ممالک کو اپنے ہاں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی اور صحیح اتحادیوں کا انتخاب کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ جیو پولیٹیکل چیزیں ایک حقیقت ہیں-آج دنیا میں یہی ہورہا ہے۔آپ کو صحیح شراکت دارہونا چاہیے لیکن آپ کو اپنے ہاں سرمایہ کاری کرنا پڑے گی۔یہ ایک مجموعہ ہے۔آپ ایک سرے کو دوسرے کے مقابلے میں نہیں لے سکتے۔آپ کو درمیان میں کام کرنا چاہیے ۔جو بائیڈن کے2021 میں امریکی صدارت سنبھالنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سیاسی سطح پرتناو¿ بڑھ چکا ہے۔

اوپیک پلس کے پیداوارمیں کٹوتی کے اعلان کے بعد سے حالیہ ہفتوں میں تعلقات میں تیزی سے تناو¿ پیداہوا ہے، جسے وائٹ ہاو¿س نے بظاہر سعودی عرب کے روس کے ساتھ اتحاد کے طور پر دیکھا تھا۔اوپیک میں تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ خالصتاً اقتصادی فیصلہ ہے جس کا مقصد تیل کی غیر مستحکم مارکیٹ کو مستحکم کرنا ہے۔دریں اثنا بعض موجودہ اورسابق امریکی عہدے داروں کے حوالے سے اطلاعات کے مطابق بائیڈن کی انتظامیہ نے امریکی کمپنیوں پردباو¿ ڈالنے کی بھی کوشش کی کہ وہ الریاض میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کریں۔تاہم وائٹ ہاو¿س نے واضح طورپران دعوو¿ں کی تردید کی ہے۔