Pak ex-PM Imran Khan not barred from contesting elections, says high court

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر مستقبل میں الیکشن لڑنے کی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ عدالت نے یہ ریمارکس ملک کے اعلی انتخابی ادارے کی جانب سے عمران خان کی نااہلی کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی)نے جمعےہ کے روز عمران خان کو اثاثے چھپانے سے متعلق توش خانہ کیس میں نااہل قرار دے دیا۔اگلے روز عمران نے ای سی پی کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ خان کو مستقبل میں الیکشن لڑنے سے نہیں روکا گیا اور وہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کرم میں 30 اکتوبر کو ہونے والے الیکشن لڑنے کے اہل ہیں۔

ہائی کورٹ کی انتظامی رجسٹرار کے اعتراضات کے باوجود جب خان کے وکیل علی ظفر نے سماعت شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا توآئی ایچ سی کے چیف جسٹس نے کہا کہ ‘عمران خان کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل نہیں قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے۔جج نے کہا کہ عدالت اعتراضات ختم ہونے کے بعد درخواست کی سماعت کرے گی اور ای سی پی کے فیصلے پر بھی روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔

انہوں نے وکیل کو ہدایت کی کہ درخواست پر اعتراضات تین دن میں نمٹائیں۔ ای سی پی کا فیصلہ عمران خان کی جانب سے توش خانہ سے خریدے گئے سرکاری تحائف کی فروخت کے عمل کو ظاہر کرنے میں ناکامی کے بعد آیا۔ سال 1974 میں قائم ہونے والا توشہ خانہ محکمہ اعلی عہدوں پر فائز لوگوں کی طرف سے ملنے والے قیمتی تحائف جمع کرتا ہے اور کیبنٹ ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی کنٹرول میں کام کرتا ہے۔ خان کو گزشتہ اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے بعد اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا، جس کو انہوں نے اپنے خلاف امریکہ کی زیر قیادت کی گئی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ روس کے بارے میں ان کی خارجہ پالیسی کے آزادانہ فیصلے کی وجہ سے یہ سازش رچی گئی۔ عمران حکومت 2018 میں برسراقتدار آئی تھی۔