At least 100 people killed in car bombs, says Somalia President

موغا دیشو:اگرچہ صومالیہ کے درالحکومت موغا دیشو میں ہفتہ کے روز ہوئے دوکار بم دھماکوں کی ہنوز کسی دہشت پسند تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے جائے وقوع کا دورہ کرتے ہوئے اپنے بیان میں ان دھماکوں کا مورد الزام انتہاپسند گروہ الشباب کو ٹہرایا اور کہا کہ ’ہمارے جن لوگوں کی خونریزی کی گئی ان میں وہ مائیں بھی شامل تھیں جن کی گودوں میں بچے تھے، وہ والدین بھی شامل تھے جو بیمار تھے، وہ طلبا بھی شامل تھے جنہیں حصول تعلیم کے لیے بھیجا گیا تھا اور وہ تاجر بھی تھے جو اپنے خاندانوں کی گذر اوقات کے لیے کچھ کمانے کی جدوجہد کررہے تھے۔

ساتھ ہی انہوں نے زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے طبی ٹیموں اور حکومتی افسران کو ہدایت کی، تاہم زخمیوں میں سے کچھ کی حالات تشویشناک ہے۔ ان دونوں دھماکوں میں پہلے دھماکے میں بھیڑ بھاڑ والے چوراہے کے قریب واقع وزارت تعلیم کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔جبکہ دوسرا دھماکا اس وقت ہوا جب پہلے دھماکے میں زخمی اور ہلاک افراد کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولنس اور دیگر شہری وہاں جمع ہوئے۔

دھماکوں کی شدت سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئیں جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھنے سے عمارت کے باہر خون جمع ہوگیا۔ یاد رہے کہ صومالیہ میں اسی ماہ 2017 میں بھی ایک ایسے مقام پر جہاں حکومتی دفاتر اور ہوٹل و ر کھوکھو ں کی ایک لمبی قطار تھی، دھماکہ خیز مواد سے بھرا ایک ٹرک دھماکہ سے اڑایا گیا تھا ۔اس دھماکے سے روز قبل ہی اسی شہر میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں ایک اعلیٰ افسر سمیت9افراد ہلاک ہو گئے تھے۔