Musk installs himself as Twitter CEO, dissolves board

واشنگٹن:(اے یو ایس ) معروف امریکی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں ٹوئٹر ملازمین کی برطرفی سے متعلق شائع ہونے والی خبر کی تردید کردی ہے۔امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک خبر میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایلون مسک یکم نومبر سے پہلے ٹوئٹر کے ملازمین کو برطرف کردیں گے تاکہ واجب الادا اسٹاک گرانٹ سے بچا جاسکے۔

اس خبر کے سامنے آنے پر برطرفی سے متعلق پوچھنے والے ایک ٹوئٹر صارف کو ایلون مسک نےجواب دیتے ہوئے لکھا کہ’یہ خبر غلط ہے‘۔نیویارک ٹائمز نے ہفتے کے روز یہ خبر دی ہے کہ ایلون مسک نے پوری کمپنی سے کافی ملازمین کو برطرف کرنے کا حکم دے دیا ہے اور کمپنی سے ملازمین کو نکالنے کا عمل یکم نومبر سے قبل ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ ٹوئٹر کے ملازمین نے یکم نومبر کو اسٹاک گرانٹ حاصل کرنے کا پروگرام بنایا ہوا تھا۔واضح رہے کہ ایلون مسک نے ٹوئٹر کنٹرول سنبھالتے ہی ٹوئٹر کے کچھ ایگزیکٹوز کو برطرف کردیا ہے۔ایلون مسک نے ٹوئٹر کے ایگزیکٹوز کو جعلی اکاو¿نٹس کی تعداد پر ا±نہیں اور ٹوئٹر کے سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزام میں برطرف کیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق، برطرف ہونے والے 3 ایگزیکٹوز، سی ای او پیراگ اگروال، سابق سی ایف او نیڈ سیگل اور سابق چیف لیگل آفیسر وجے گاڈے کمپنی سے تقریباً 187 ملین ڈالرز وصول کرنے کے بعد کمپنی چھوڑیں گے۔