Russia 'weaponizing food' by suspending grain exports says Antony Blinken

واشنگٹن:(اے یو ایس ) اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں یوکرین سے اناج کی برآمد کے معاہدے پر عمل آوری کو معطل کرنے کے روس کے فیصلہ پر امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس دوبارہ شروع کی گئی جنگ میں غذا ئی اشیا کو ہتھیارکے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس سے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک اور خوراک کی عالمی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے جب کہ پہلے سے ہی سنگین انسانی بحران اور خوراک کے عدم تحفظ کو بڑھا رہا ہے۔بلنکن نے مزید کہا کہ امریکہ روس کی حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ اناج کی ترسیل کے اس پروگرام میں دوبارہ شریک ہو اوران طے شدہ انتظامات کی مکمل تعمیل کرے اوراس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے کہ دنیا بھر کے لوگ اس اقدام کے ذریعے فراہم کردہ فوائد حاصل کرنے کے قابل رہیں۔

روس کا یہ اعلان اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس کی جانب سے روس اور یوکرین پر اناج کے معاہدے کی تجدید کے لیے زور دینے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی اقدام کو توقع کے مطابق قرار دیا۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پر یس کے مطابق زیلنسکی ماسکو پر ستمبر سے اناج لے جانے والے بحری جہازوں کاراستہ روکنے کا الزام لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال 176 جہاز سمندر میں کھڑے ہیں، جن میں 20 لاکھ ٹن سے زائد اناج موجود ہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں روس کی جانب سے یوکرین کے اناج کی ترسیل کے معاہدے سے شمولیت معطل کرنے کے فیصلے کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ اس سےدنیا میں فاقہ کشی میں اضافہ ہوگا۔ہفتے کو اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اس معاملے پر روس کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔اقوام متحدہ میں روس کے نائب نمائندہ اوّل دیمتری پولیانسکی نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ روس نے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے پر مبینہ حملے اور اناجکے لیے مخصوص راہداری کی حفاظت کی وجہ سے پیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی درخواست کی تھی۔