Russia ready to prvide 5 lakh ton grain to needy countries

ماسکو:(اے یوایس ) یوکرین سے اناج کی برآمد کے معاہدے کی معطلی کے بعد گزشتہ دو دنوں میں بہت سے مغربی ممالک نے روس پر الزامات کی بھرمار کر دی ہے۔ اسی تناظر میں منگل کے رو روس نے اعلان کیا ہے کہ روس گندم فراہم کرکے ضرورت مند ملکوں کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔ویانا میں روس کے مستقل نمائندے میخائل الیانوف نے کہا کہ ان کا ملک 500,000 ٹن اناج فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں مزید کہا کہ اناج کی یہ مقدار ضرورت مند ممالک تک مفت پہنچ جائے گی۔مغرب نے یوکرین سے اناج برآمد کے معاہدے پر عمل درآمد معطل کرنے پر روس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا تھا کہ روس عالمی سطح پر بالخصوص افریقی اور دیگر ترقی پذیر ملکوں کیلئے غذائی تحفظ کے مسئلے کو بڑھا رہا ہے۔

یوہ وہ ممالک ہیں جو 24 فروری کو یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان ملکوں میں اناج خاص طور پر گندم کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگیا ہے۔واضح ر ہے کہ روس نے اتوار کو اناج برآمد پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ اسے اس تباہ شدہ ڈرون کا، جس نے کریمیا کے سیواسٹوپول میں گزشتہ ہفتے اس کے بیڑے پر حملہ کیا تھا، ملبہ مل گیا ہے۔ اس ڈرون نے جو محفوظ راستہ استعمال کیا وہ اناج برآمد کرنے کیلئے مختص کیا گیا راستہ تھا۔ ڈرون کو بحیرہ اسود اقدام کے تحت چارٹر کئے گئے غیر فوجی بحری جہازوں میں سے ایک سے لانچ کیا گیا ہے۔ بعد ازاں روس نے یہ الزام پیر کے روز سلامتی کونسل میں بھی دہرا یا۔روسی صدر پوتین نے یوکرین سے مطالبہ کیا ہے کہ اناج کی برآمدی راہداری سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔دوسری طرف روسی فیصلے کے باوجود اقوام متحدہ اور ترکی کی حمایت سے بحیرہ اسود میں گزشتہ روز بحری جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ روس کی شرکت کے بغیر معاہدہ پر عمل درآمد جاری رکھنا خطرناک ثابت ہوگا۔