Saudi Arabia, US share intel on possible Iran attack

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکا کی قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی جانب سے سعودی عرب کو ملنے والی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اس ضمن میں ایک بیان دیتے ہوئے امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ ان کے ملک کو ایران کی طرف سے سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیوں پرسخت تشویش ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ اس کا جواب دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ہمیں خطرات پر تشویش ہے اور ہم فوجی اور انٹیلی جنس چینلز کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہم خطے میں اپنے مفادات اور شراکت داروں کے دفاع کے لیے کام کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے”۔قبل ازیں سوموار کو ایران کے لیے امریکی ایلچی رابرٹ میلے نے کہا تھا کہ امریکہ ایران میں پرامن مظاہروں کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب صدر جو بائیڈن نے مجھے اپنے عہدے پر مقرر کیا تو اس کا مقصد ایران کے بارے میں یورپی موقف کو یکجا کرنا اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونے سے دنیا خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ بائیڈن ایران کے ساتھ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر سفارت کاری ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ فوجی آپشن پر بات کریں گے۔