At SCO meet hosted by China, Jaishankar takes aim at Belt and Road Initiative

بیجنگ: وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے ‘گھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کونسل میٹنگ’میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ اس دوران چین کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر خارجہ نے اسے بی آر آئی منصوبے کے حوالے سے مشورہ بھی دیا۔ وزیر خارجہ نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی)کا واضح حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کنیکٹیویٹی منصوبوں کو ایس سی او کے رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے۔ جے شنکر نے کہا کہ چابہار بندرگاہ اور بین الاقوامی نارتھ ساو¿تھ ٹرانسپورٹ کوریڈور خطے میں اقتصادی امکانات کے راستے کھولے گا۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ارکان کے ساتھ ہماری کل تجارت 141 بلین ڈالر ہے جس میں کئی گنا اضافے کا امکان ہے۔ منصفانہ مارکیٹ تک رسائی ہمارے باہمی فائدے کے لیے ہے اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔اس کے بعد انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ہمیں وسطی ایشیائی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس سی او کے خطے میں بہتر رابطے کی ضرورت ہے۔جے شنکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آنے والا سال 2023 کو اقوام متحدہ بین الاقوامی باجرہ سال کے طور پر منایا جائے گا۔ ہندوستان خوراک کے بحران سے نمٹنے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ زیادہ تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

یہ اجلاس ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ ا سمیں تنظیم کے کاروباری اور اقتصادی ایجنڈے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے اور اس کے سالانہ بجٹ کو منظور ی دی جاتی ہے۔واضح ہو کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 2001 میں روس، چین، کرغز جمہوریہ، قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان کے سربراہان مملکت نے شنگھائی میں ایک سربراہی اجلاس میں کیا تھا۔ کئی سالوں میں یہ دنیا کی سب سے بڑی بین علاقائی بین الاقوامی تنظیموں میں سے ایک کے طور پر ابھری ہے۔ 2017 میں ہندوستان اور پاکستان اس کے مستقل رکن بن گئے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا سالانہ سربراہی اجلاس گزشتہ ماہ ازبکستان کے شہر سمرقند میں ہوا۔ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ اور گروپ کے دیگر لیڈروں نے شرکت کی۔