China denies it has police stations in Netherlands

ایمسٹرڈم:((اے یوایس ) ہالینڈ کی حکومت کی جانب سے چین کو یہ حکم دیے جانے کے،کہ وہ ان کے ملک میں قائم پولیس اسٹیشنز کو فوری طور پر بند کر دے، ایک روز بعد چین کی وزات داخلہ نے کہا ہے کہ ہالینڈ میں چین کے جو دفاتر قام کیے گئے ہیں وہ پولس اسٹیشنز نہیں بلکہ چینی شہریوں کو دستاویزات کی تجدید کرانے میں مدد بہم پہنچانے کے لیے قائم کیے گئے ہیں ۔واضح ہو کہ منگل کے روز چین سے کہا تھا کہ وہ اسکی سر زمیں پر قائم پولس اسٹیشنز ، جن کے بارے میں رپورٹس ملی ہیں کہ انہیں مخالفین کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، فی الفور بند کر دے۔ ڈچ میڈیا نے گزشتہ ماہ رپورٹ کیا کہ ایمسٹرڈیم اور روٹرڈیم میں پولیس پوسٹس سفارتی معاملات میں مدد فراہم کرتی ہیں لیکن ہالینڈ کی حکومت کو اس کی کوئی اطلاع نہیں دی جاتی۔ستمبر میں اسپین میں قائم این جی او سیف گارڈ ڈیفنڈرز کی تحقیقات کے نتیجے میں یہ رپورٹس سامنے آئیں۔

جن میں بتایا گیا کہ چین نے دنیا بھر میں 54 سمندر پار پولیس مراکز قائم کیے ہیں، جن میں سے دو ہالینڈ کے اندر کام کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ برطانیہ اور کینیڈا میں تین تین مراکز ہیں۔سیف گارڈ ڈیفینڈرز کی لورا ہارٹ، ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دے رہی ہیں۔نیدرلینڈ کے وزیر خارجہ ووپک ہوئکسٹرا نے ٹوئٹر پر کہاکہ کیونکہ ان اسٹیشنوں کے قیام کے لیے ہالینڈ کی حکومت سے کوئی اجازت نہیں لی گئی ،اس لیے ان کی وزارت نے (چینی) سفیر کو مطلع کیا کہ ان اسٹیشنوں کو فوری طور پر بند کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے سفیر سے اسٹیشنوں کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی اور وہ پوسٹوں کی سرگرمیوں کی چھان بین کر رہی ہے۔نشریاتی ادارے آر ٹی ایل اور تحقیقاتی ویب سائٹ فالو دی منی نے ،ہالینڈ میں رہنے والے ایک چینی مخالف کے حوالے سے بتایا کہ2018میں قائم کیے جانے والے ان دو پولیس اسٹیشنزکو ،چین کے سیاسی مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نےنیدر لینڈز کی ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ سروس اسٹیشن، بیرون ملک مقیم چینی شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید جیسے کاموں میں مدد دینے کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ترقیوں میں صدر شی نے تائیوان سے متعلق اپنے عزائم کو بھی ترجیح دی ہے۔آر ٹی ایل کا کہنا تھا کہ پہلا چینی دفتر جون 2018 میں چین کےلیسوئی علاقہ کی پولیس فورس نے ایمسٹرڈیم میں کھولا تھا اور اس کی سربراہی دو افراد کر رہے ہیں جنہوں نے نیدرلینڈز جانے سے پہلے چینی پولیس فورس میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔نشریاتی ادارے کے مطابق، چینی شہر فوزاو¿کی پولیس نے اس سال کے شروع میں ساحلی شہر روٹرڈیم میں دوسرا دفتر کھولا، جسے ایک سابق فوجی چلاتا ہے۔نیدر لینڈز کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان کے ملک میں رہنے والی چینی کمیونٹی کی جانب سے مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں کہ انہیں ،بہت خطرات ہیں اور ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور یہ کہ وہ ایک ہاٹ لائن قائم کر رہی ہے۔ کناڈا کی وفاقی پولیس نے گزشتہ ہفتے کہا کہ انہیں ٹورانٹو کے علاقے میں چین کے تین اسٹیشنوں کے قیام کی کی رپورٹس ملی ہیں جن کی وہ تحقیقات کر رہے ہیں۔