Iran says report about Iranian threats against Saudi Arabia a ‘baseless accusation’

تہران:(اے یو ایس )ایران نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں سعودی عرب پر ایران کے حملے کے بارے میں امریکا کی جانب سے شیئر کی گئی انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیا گیا ہے اورکہا ہے کہ اس میں بے بنیادالزامات شامل ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصرکنعانی نے بدھ کے روز کہاکہ بعض مغربی اور صہیونی جماعتوں کی جانب سے اس طرح کی متعصبانہ خبروں کی اشاعت کا مقصد ایران کے خلاف منفی ماحول پیدا کرنا اور خطے کے ممالک کے ساتھ موجودہ مثبت رجحانات کوختم کرنا ہے۔انھوں نے مزیدکہا کہ ایران باہمی احترام،بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کے فریم ورک کے اندررہتے ہوئے اپنے ہمسایوں کے ساتھ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے اور خطے میں استحکام ،سلامتی کے قیام اور فروغ کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعمیری بات چیت میں مضمر سمجھتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے منگل کے روز ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سعودی عرب نے امریکاکے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کاتبادلہ کیا ہے۔اس میں ایران کی طرف سے مملکت میں اہداف پرممکنہ حملے کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، امریکا اور خطے کے دیگر ہمسایہ ممالک نے اپنی افواج کی الرٹ کی سطح بڑھا دی ہے۔واضح ہو کہ امریکہ نے منگل کے روزسعودی عرب کے خلاف ایرانی خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ جواب دینے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں خطرے کی تصویرپرتشویش لاحق ہے اور ہم سعودی عرب کے ساتھ عسکری اور انٹیلی جنس چینلز کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔ہم خطے میں اپنے مفادات اور شراکت داروں کے دفاع میں کام کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ایران نے سعودی عرب کو ایک ملفوف دھمکی دی تھی اور انتباہ جاری کیا تھا۔ایران کے پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرحسین سلامی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ سعودی رہنماو¿ں کو اسرائیل پرانحصار نہیں کرنا چاہیے۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ سعودی رہ نما شیشے کے محلوں میں رہتے ہیں۔انھوں نے سعودی قیادت کو مخاطب ہوکرخبردار کرنے کے انداز میں کہا تھا کہ آپ ایک ایسے اسرائیل پر بھروسہ کررہے ہیں جو ٹوٹ رہا ہے اور یہ آپ کے دور کا بھی اختتام ہوگا۔