Us expresses serious concern over Iran missile tests

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اقدامات استحکام کو متزلزل کرنے والے اور غیر مفید ہیں۔وزارت کے ترجمان نے اتوار کو کہا کہ ان کا ملک ابھی بھی ایران کی میزائلوں کی مسلسل ترقی کے بارے میں فکر مند ہے۔ ایران کے یہ میزائل صنعتی مصنوعی سیاروں کو خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رائٹرز کے مطابق انہوں نے وضاحت کی کہ ان میزائلوں میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی وہ تقریبا مماثل ہے اور بیلسٹک میزائلوں میں استعمال ہونے والے ٹیکنالوجی جس میں لانگ رینج ٹیکنالوجی بھی شامل ہے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیلسٹک میزائلوں کا آغاز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کے لئے ایک چیلنج ہے۔

اس قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کو لے جانے کے قابل ہونے کے لئے ڈیزائن کردہ بیلسٹک میزائلوں سے متعلق کوئی سرگرمی نہ کرے گا۔ جس میں بیلسٹک میزائل ٹکنالوجی لانچ کرنا بھی شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایرانی میزائل پروگرام کی اضافی پیشرفت اور متعلقہ میزائلوں اور ٹکنالوجی کی فراہمی کے لئے اس کی صلاحیت میں اضافہ کا مقابلہ کرنے کیلئے پابندیوں سمیت متعدد ٹولز کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔” قائم 100“ کا تجربہ کیا ہے۔ اس میزائل کو وزارت مواصلات کے مفاد کے لئے ایرانی ”ناہید سیٹلائٹ“ لانچ کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ایران زمین کی سطح سے 500 کلومیٹر دور مدار میں 80 کلو گرام سیٹلائٹ رکھنے کے قابل ہو جائے گا۔تہران نے گزشتہ سالوں میں کئی سیٹلائٹ لانچ کرنے کی کوششیں کیں جو تکنیکی خرابیوں کے باعث ناکالم ہوگئی تھیں۔یاد رہے کہ امریکہ ایران کی جانب سے طویل المیعاد بیلسٹک ٹکنالوجی کے استعمال کے امکان سے خوفزدہ ہے۔ یہ مصنوعی سیاروں کو اپنے مدار میں رکھنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور اس سے جوہری اسلحہ کو بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کو لے جانے کے لئے ڈیزائن کردہ بیلسٹک میزائلوں پر کام کرنے سے آٹھ سال تک روکتا ہے۔