Exclusive: Imran's candid take on 'bad romance' with military

لاہور:(اے یو ایس )سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ سیاست سے فوج کا کردار مکمل طور پر ختم کرنا مکمن نہیں، ان کی طاقت کا تعمیری استعمال ملک کو ادارہ جاتی بحران سے نکال سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار عمران خان نے اپنی رہائش گاہ پر ڈان کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کیا، زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ کی جانب جانے والی تنگ سڑک پر ان دنوں صوبائی پولیس فورس کے کم از کم 3 درجن اہلکار تعینات ہیں۔

وزیر آباد میں عمران خان پر حملے کے بعد ان کی سیکیورٹی ایک سنگین معمہ بن چکی ہے، ان کی رہائش گاہ پر فون لے جانے کی اجازت نہیں ہے، تاہم سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد وکلا، صحافی اور سیکورٹی اہلکاروں کی آمدورفت جاری ہے۔قد آور شخصیت کے حامل عمران خان کو اس غیرمعمولی حالت میں دیکھ کر بظاہر حیرت ہوئی جو وہاں پلستر چڑھی ٹانگ صوفے پر رکھ کر تشریف فرما تھے، کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس حملے نے عمران خان کو ہلا کر رکھ دیا ہوگا لیکن وہ مکمل جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں، دوران انٹرویو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وہ ذرا بھی نہ جھجکے۔اگرچہ ان کے بہت سے حامی اب انہیں ایک نئے جمہوریت پسند سیاستدان کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو فوج اور سویلین حکومت کے درمیان تعلقات کے اصولوں کو دوبارہ وضع کرنا چاہتا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ انہیں ادارے کی طاقت اور اثر و رسوخ پر یقین ہے اور ان کا خیال ہے کہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مثبت عمل دخل سے بہتر نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے دورِ حکومت کے 3 برس کے دوران ان کے فوج کے ساتھ تعلقات میں تلخی آ گئی۔