PTI files pleas in the SC's registries in Karachi, Peshawar, Quetta, Islamabad and Lahore

اسلام آباد:(اے یو ایس ) پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی تمام شہروں میں موجود رجسٹریز میں درخواست دائر کر دی ہے۔پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پیر کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تحریکِ انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ا±ن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ اس بات کا بھی تعین کرے کہ عمران خان کی درخواست پر ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کیوں کی گئی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ سینیٹر اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو اور صحافی ارشد شریف کے قتل کی بھی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد میں درخواست جمع کرائی۔تحریکِ انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسف زئی ، کراچی رجسٹری میں علی زیدی جب کہ کوئٹہ رجسٹری میں سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے درخواست جمع کرائی۔چیئرمین تحریکِ انصاف اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہیے۔برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ کو ایک انٹرویو میں عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ کا پاکستان سے رویہ غلاموں والا ہوتا ہے البتہ وہ اس کے لیے امریکہ کو مورد الزام نہیں سمجھتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر وہ دوبارہ وزیرِ اعظم منتخب ہو گئے تو امریکہ سے باوقار تعلقات رکھنے کے خواہاں ہو ں گے۔

واضح رہے کہ جب رواں برس اپریل میں قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور ہوئی تھی تو عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی حکومت سازش کے تحت ختم کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ حکومت کے خاتمے میں امریکہ ملوث ہے جس کے لیے وہ ایک سفارتی سائفر کا حوالہ دیتے تھے۔امریکہ نے عمران خان کے الزامات کی متعدد بار تردید کی ہے۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا ہے۔ امریکی حکام عمران خان کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے زور دیتے ہیں کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

عمران خان نے اتوار کو سامنےآنے والے ‘فنانشل ٹائمز’ کو دیے گئے انٹرویو میں اپنی حکومت کے خاتمے کی مبینہ سازش کے حوالے سے مزید کہا کہ اب یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے اور پیچھے رہ گیا ہے۔ان کے بقول وہ جس پاکستان کی قیادت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اس کے دنیا کے ہر ملک سے اچھے تعلقات ہونے چاہیئں جس میں خاص طور پر امریکہ شامل ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے پاکستان کے تعلقات بالکل ایسے ہی رہے ہیں جیسے مالک اور غلام کا تعلق ہوتا ہے لیکن اس کی امریکہ سے زیادہ پاکستان کی حکومتیں ذمہ داری رہی ہیں۔انٹرویو میں انہوں نے ایک بار پھر اپنا مو¿قف دہرایا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اسی وقت ا? سکتا ہے جب ملک میں قبل از وقت انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے عمران خان کے مو¿قف پر تنقید کی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سائفر کا معاملہ اختتام کو پہنچ چکا ہے۔