Pakistan deal not enough to extend CPEC in Afghanistan

بیجنگ: چین کا اپنی اقتصادی راہداری کو وسعت دینے کا خواب پاکستان کی وجہ سے پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ چین کے وزیر اعظم شہباز شریف کی قرارداد کے باوجود پاکستان افغانستان میں سی پی ای سی کی توسیع کا کام نہیں کر پا رہا۔ پاکستان کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے چین غیر مطمئن ہے۔جیو پولیٹک کی رپورٹ کے مطابق چین پاکستان کے ساتھ مل کر سی پی ای سی کو افغانستان تک پھیلانا چاہتا تھا، لیکن اسے ڈر ہے کہ اسے وہاں بھی اسی قسم کے دہشت گردانہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ ے گا، جو وہ ابھی پاکستان میں جھیل رہا ہے۔

افغانستان میں بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے اور سرمایہ کاری کو جذب کرنے کی صلاحیت بہت کم ہے۔ ساتھ ہی ، طالبان کی حکومت کو داوعش جیسے اسلام پسند گروپوں کی مخالفت سے زیادہ خطرے کا سامنا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے انسٹی ٹیوٹ فار ساو¿تھ ایشین اسٹڈیز کی تحقیقی تجزیہ کار کلاو¿ڈیا چیا یی این نے کہا کہ طالبان کو شروع سے ہی چینی سرمایہ کاری کی توقع تھی۔ لیکن یہ مکمل نہ ہو سکا۔ چین مسلسل سرمایہ کاری سے گریزاں ہے۔

انہوں نے افغانستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے نائب صدر خان جان الکوزے کے حوالے سے کہا کہ چین کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ افغانستان میں بڑے قبائلی علاقے ہیں، جہاں حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ان علاقوں کو دہشت گردوں کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ روس کو بھی افغانستان تک اپنا تیل بیچنے کے لیے اسی طرح کا مسئلہ درپیش ہے۔ افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد چین اور روس دونوں اس خالی جگہ کو پر کرنا چاہتے ہیں۔ روس موجودہ تجارتی شراکت دار ہے اس لیے چین افغانستان کے غیر دریافت شدہ وسائل کو تلاش کرنا چاہتا ہے۔