Rise in Chinese police stations across world, a serious concern

بیجنگ: چین اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے کسی بھی سرحد کو عبور کرنے سے دریغ نہیں کر رہا ہے۔ اسی کڑی میں چین دنیا بھر میں تیزی سے اپنی پولیس چوکیاں قائم کر رہا ہے۔ بین الاقوامی فورم نے چین کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد اس کی طرف دھیان نہ دیا گیا تو مختلف ممالک میں خود مختاری کے توازن کے حوالے سے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔بین الاقوامی فورم برائے حقوق و سلامتی کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے سیاسی مخالفین اور بیرون ملک مقیم شہریوں کو اذیت دینے کے لیے مختلف ممالک میں غیر اعلانیہ پولیس سٹیشن بنائے ہوئے ہیں۔ کسی دوسرے ملک میں ایسا سیکورٹی نظام بنانا اس ملک کے خود مختار حق کی صریح خلاف ورزی ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

فورم کی رپورٹ کے مطابق چین 21 ممالک اور پانچ براعظموں کے 25 شہروں میں 54 غیر ملکی سروس سینٹر چلارہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد کناڈا اور ہالینڈ کے حکام نے ایسے غیر قانونی مراکز اور ان کی کارروائیوں کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ انگلینڈ اور ا سکاٹ لینڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں کی وضاحت طلب کرنے کے لیے بھی تحقیقات کریں گے۔

ان پولیس اسٹیشنوں کا ایک اور مقصد ان مخالفین کو دھمکانا ہے جو چینی کمیونسٹ پارٹی(سی سی پی) کے نظریاتی طریقہ کار سے مختلف ہیں۔ اگرچہ چین اس معاملے پر کئی بار اپنا موقف واضح کر چکا ہے لیکن اس نے کبھی بھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی واضح طور پر تردید نہیں کی۔ مختلف چینی سفارتخانوں نے اس معاملے پر مختلف جوابات دیے ہیں۔ فورم نے ہسپانوی شہری حقوق کے ایک گروپ کی رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ فوزو اور چنگتیان شہروں سے چینی فوج دنیا بھر میں پولیس اسٹیشن چلا رہی ہے۔ اس کے ذریعے چینی فوج دنیا کے کئی ممالک میں مقیم غیر ملکی چینی شہریوں کو اپنے ملک واپس آنے پر آمادہ کر رہی ہے۔