Pakistan's total debt surges to Rs 12 trillion in first quarter

اسلام آباد: پاکستان کی معاشی حالت روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قرضوں اور واجبات میں 12 ٹریلین پاکستانی روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض کی قسطیں اور روپے کی قدر میں کمی نے تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مالی سال 2022-2023 میں جولائی تا ستمبر کے دوران قرضے اور واجبات 62.46 ٹریلین روپے رہے جو کہ پچھلے مالی سال کی اسی مدت کے 50.49 ٹریلین روپے سے زیادہ ہے۔ ملک کا قرض بڑھ کر 59.37 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا، جب کہ کل واجبات 23 فیصد بڑھ کر 3.56 لاکھ کروڑ روپے ہو گئے۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ریسرچ کے سربراہ فہد رو¿ف نے کہا کہ قرضوں میں اضافہ بنیادی طور پر بیرونی ذرائع سے ہوا۔ اس میں آئی ایم ایف کی 1.2 بلین امریکی ڈالر کی قرض کی قسط اور مجموعی بیرونی قرضوں پر روپے کی قدر میں کمی کے اثرات شامل ہیں۔ دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق حکومت کا گھریلو قرضہ 18.7 فیصد بڑھ کر 31.40 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی)کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر مالی سال 2023 میں بیرونی قرضہ 17.99 ٹریلین روپے رہا جو کہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 30.2 فیصد زیادہ ہے۔ کل بیرونی قرض اور واجبات 33.4 فیصد بڑھ کر 28.94 لاکھ کروڑ روپے ہو گئے۔ سربراہ برائے تحقیق تاراس سیکیورٹیزلمیٹڈ مصطفی مستنصر نے کہا قرض کی ذمہ داریوں کا انتظام حکومت کے سامنے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے تاہم آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے نویں جائزے کے اختتام پر تحفظات ہیں۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے جائزے میں تاخیر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مزید پریشان کر رہی ہے۔ دریں اثنا، پانچ سالہ کرنسی ڈیفالٹ سویپ انڈیکس کے حساب سے پاکستان کے ڈیفالٹ کا خطرہ پیر کو 4.2 فیصد بڑھ کر 64.2 فیصد کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے پاس بڑھتی ہوئی درآمدی ادائیگیوں کو پورا کرنے اور وقت پر غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے وسائل نہیں تھے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس 9 ارب امریکی ڈالر سے زائد کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں جو درآمدات اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے کافی ہیں۔