Iran-backed Houthis may threaten more maritime attacks :Yemeni Chief of Staff Sagheer bin Aziz

صنعا:(اے یو ایس ) یمنی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل صغیر بن عزیز نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا ایران کی ہدایات اور براہ راست مدد سے سمندری بحری جہازوں کو خطرہ بن رہی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا ان خطرات کے نقصانات خطے کے تمام ممالک کو پہنچیں گے۔ اس لیے خطے کے تمام ممالک کوحوثی ملیشیا کے خلاف مضبوط موقف اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے اقدامات اور اس کے آلہ کاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی تو خطے میں جہاز رانی خطرے میں رہے گی۔منامہ ڈائیلاگ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بن عزیز نے کہا کہ یمن کے عوام ایران کے آلہ کاروں اور ہتھیاروں سے مارے جا رہے ہیں اور بے گھر ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں شہری مارے جا چکے ہیں اور ریاستی اداروں کی تباہی ہوئی ہے ۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ حوثی ملیشیا کا بین الاقوامی آبی گزرگاہوں اور جہاز رانی کے لیے خطرہ اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی توسیع ہے جو برسوں پہلے یمنیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر شروع ہوئی تھی۔یمن کے مغربی ساحل پر جوائنٹ سکیورٹی فورسز نے جمعہ کی شام اعلان کیا کہ انہوں نے حوثی ملیشیا کی نقل و حرکت کو ناکام بنا دیا ہے، جس سے ملک کے مغرب میں بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی اور تجارت کو خطرہ لاحق ہے۔جمعرات کو یمنی فوج نے انکشاف کیا کہ حوثی ملیشیا نے صنعا سے بحیرہ احمر کی طرف ایک اینٹی شپ میزائل کا تجربہ کیا تھا جو حدیدہ کے مغرب میں گرا تھا۔

جنوب مشرقی یمن کی شبوہ گورنری کے رضوم ڈاریکٹوریٹ میں واقع قنا آئل پورٹ کی حفاظت کرنے والی فورسز نے 9 نومبر کو بتایا کہ انہوں نے پورٹ ڈاک پر سامان اتارنے کے دوران ایندھن کے جہاز کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔باخبر ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حوثی ڈرون کو تباہ کردیا گیا اور حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ اگر یہ حملہ کامیاب ہو جاتا تو یمن کے مشرقی ساحل کے قریب بحیرہ عرب میں ایک بڑی ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتا تھا۔