Iran situation 'critical', more than 300 killed, U.N.

اقوام متحدہ :(اے یو ایس ) اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ہائی کمشنر کے مطابق، ایران میں صورت حال نازک ہوگئی ہے، جہاں گزشتہ دو ماہ کے دوران ہنگاموں میں تین سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں، جب کہ دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے اپنے زیر زمین فوردو نیوکلیر پاور پلانٹ پر60 فیصد تک افزودہ یورینیم پیدا کرنا شروع کردیا ہے۔ایران میں مظاہرین نے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے دو ماہ بعد اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے آبائی گھر کو نذر آتش کر دیا ہے۔یہ تصویرسوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو سے لی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی کے کمشنر نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کی صورت حال نازک ہے جہاں احتجاج کرنے والوں کے خلاف حکام کی کارروائیاں سخت ہوتی جارہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں گزشتہ دو ماہ کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے کمشنر ووکر ٹرک کے ترجمان نے جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی تعداد، جس میں اختتامِ ہفتہ دو بچوں کی ہلاکت بھی شامل ہے، اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف بڑھتی ہوئی سختی اس ملک کی نازک صورت حال کو اجاگر کرتی ہے۔ایران کی اخلاقی پولیس کی تحویل میں سولہ ستمبر کو بائیس سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے جسے حجاب درست طور پر نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، اسلامی جمہوریہ کے طول و عرض میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔تہران ان احتجاجی مظاہروں کے لئے غیر ملکی دشمنوں اور انکے ایجنٹوں پر الزام عائد کرتا ہے۔ جو معاشرے کے ہر طبقے کے ایرانیوں کی جانب سے مقبول شکل اختیار کر گئے ہیں۔ اور جو ا1979کے انتخاب کے بعد سے مذہبی رہنماؤں کی حکمرانی کے لئے اب تک کے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے۔

اسی بریفنگ میں حقوق انسانی کے ہائی کمشنر کے ترجمان جیرمی لارنس نے بڑے کرد۔ شہروں میں صورت حال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جہاں اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں چالیس سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ایران کے سرکاری میڈیا نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ پولیس والوں سمیت46 سے زیادہ سیکیورٹی فورسز کے ارکان احتجاجی مظاہروں میں مارے گئے ہیں۔دریں اثنا ایران کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران نے ملک کے زیر زمین فوردو نیوکلیئر پلانٹ میں 60 فیصد افزودہ یورینیم کی پیداوار شروع کر دی ہے۔سرکاری میڈیا نے اسے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی ایک قرارداد کے جواب کے طور پر بیان کیا ہے۔اس قدم کو ملک کے جوہری پروگرام میں ایک اہم اضافے کے طور پر دیکھا گیا۔60 فیصد افزودگی ہتھیاروں کی تیاری کے لئے ایک تکنیکی قدم ہے۔جوہری عدم پھیلاو¿ کے ماہرین نے حالیہ مہینوں میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس اب کم از کم ایک جوہری بم کے لیے 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے۔ایران پہلے ہی وسطی ایران میں واقع اپنی نتانز جوہری تنصیب میں یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ فوردو پلانٹ دارالحکومت تہران سے تقریباً ایک سو کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔